بورڈنگ پاس کے بغیر سہولت پہنچانے کے نام پر مسافرین پر حکومت نظر رکھ سکتی ہے
حیدرآباد ۔25جولائی (سیاست نیوز) مسافرین کی سہولت کے نام پر لگائے جانے والے چہرے کی شناخت کے ذریعہ بغیر کسی بورڈنگ پاس کے ائیرپورٹ میں داخل ہونے کی سہولت عوام کے حق میں کس حد تک فائدہ مندہے اور کیا ائیر پورٹ پر حاصل کیا جانے والا یہ ڈاٹا محفوظ ہے! حکومت ہند نے حیدرآباد ائیرپورٹ پر مسافرین کے لئے جو چہرے کی شناخت کے ساتھ وصول کئے جانے والے ڈاٹا کو جمع کرنے کی سہولت کا تجرباتی اساس پر آغاز کیا ہے اس تجربہ کی کامیابی کی صورت میں ملک کے تمام بڑے اور مصروف ائیرپورٹس پر یہ سہولت شروع کی جائے گی ۔حکومت کی جانب سے وصول کئے جانے والے اس ڈاٹا کے متعلق بتایاجاتا ہے کہ ائیر پورٹ کے منتظمین کی جانب سے مسافرین کی روانگی کے ایک گھنٹہ تک اس ڈاٹا کی نگرانی کی جاتی ہے اور اس کے بعد اس ڈاٹا کو مٹانے کی ہدایت ہے لیکن ائیر منتظمین کی جانب سے جمع کیا جانے والا یہ ڈاٹا اس دوران حکومت تک پہنچ جاتا ہے اور اس ڈاٹا کا کچھ بھی استعمال ممکن ہے۔بتایاجاتا ہے کہ ائیرپورٹ پر وصول کئے جا رہے چہرے کی شناخت کے اس مواد کا تجارتی استعمال تو کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے علاوہ اس ڈاٹا کا حکومت اپنے شہریوں پر نظر رکھنے کیلئے بھی استعمال کرسکتی ہے۔ حکومت ہند اور ائیر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیا کی جانب سے یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ چہرے کی شناخت کے ذریعہ فراہم کی جانے والی مسافرین کو سہولت کے لئے جمع کیا جانے والا ڈاٹا حکومت دیگر مقاصد کیلئے بھی استعمال کرسکتی ہے ۔ قواعد کے مطابق ائیر پورٹ منتظمین کومسافر کی روانگی کے بعد ایک گھنٹہ تک ڈاٹا رکھنے کی اجازت حاصل ہے اور ایک گھنٹہ کے بعد انہیں ڈاٹا تلف کرنا ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی اس گنجائش کے دوران اگر کوئی ائیر پورٹ منتظم کمپنی کی جانب سے ائیر پورٹ پر فراہم کی جانے والی سہولتوں کے متعلق معلومات بہم پہنچانے کیلئے اگر مسافر سے اجازت حاصل کرتے ہوئے اس کا ڈاٹا محفوظ کر لیتی ہے تو یہ کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہے کیونکہ مسافر کی مرضی سے ڈاٹا لیا جارہاہے۔ حکومت کی جانب سے حاصل کئے جانے والے ڈاٹا کا کیا استعمال کیا جاسکتا ہے کہ اس کے متعلق بھی مختلف قیاس آرائیاں کی جانے لگی ہیں کیونکہ یہ کہا جا رہاہے کہ ائیر پورٹ پر حاصل کئے جانے والے اس ڈاٹا کا مشاہدہ سی آئی ایس ایف تو کرتی ہی ہے لیکن اس کے بعد یہ ڈاٹا محکمہ پولیس ‘ انٹلیجنس بیورو اور RAWکے حوالہ بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ حکومت نے اسمگلرس اور ملزمین کو ملک سے فرار ہونے سے روکنے کا جو میکانزم تیار کیا ہوا ہے اس کے تحت ایسا کیا جانا کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہوگا کیونکہ فی الحال محکمہ پولیس ائیر پورٹ اتھاریٹی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کیا کرتی تھی لیکن اب حکومت کے پاس موجود ڈاٹا کے حصول کیلئے کوئی دشواری کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا۔امریکہ میں جہاں امریکی قومی سیکیوریٹی ایجنسی امریکی پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے وہاں بھی اس طرح ڈاٹا کے استعمال کے ذریعہ شہریوں پر نگاہ نہیں رکھی جا سکتی لیکن ہندستان میں RAW ہندستانی پارلیمنٹ کو بھی جوابدہ نہیں ہے بلکہ وہ صرف وزیر اعظم کے دفتر سے احکام حاصل کرتی ہے اسی لئے یہ ڈاٹا کو محفوظ کیا جانا ہندستانی شہریوں کیلئے انتہائی تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔ڈاٹا کے تحفظ کے ماہرین کا کہناہے کہ چین میں حکومت کی جانب سے حاصل کیاجانے والا ڈاٹا اپنے شہریوں کے نگرانی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور چین کے شہریوں کی ہر حمل و نقل سے ان کی حکومت واقف ہوتی ہے ۔
