ایس آئی آر مسلمانوں کی رہنمائی کیلئے عامر علی خاں کے مثالی اقدامات

   

محمد نعیم وجاہت
روزنامہ سیاست نے اپنی اشاعت کے آغاز کے ساتھ ہی زندگی کے ہر شعبہ میں مسلمانوں کی رہنمائی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ سقوط حیدرآباد کے فوری بعد ملت مظلومہ میں مایوسی کی جو لہر پیدا ہوئی تھی ، مسلمانوں کو مایوسی کی اس تاریکی سے نکالنے کی جو انتھک جدوجہد روزنامہ سیاست نے کی اسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی ۔ بانی سیاست جناب عابد علی خاں مرحوم نے خدمت خلق کی جو شمع روشن کی تھی اس کی روشنی تاریکیوں کو چیرتے ہوئے نہ صرف حیدرآباد دکن بلکہ ملک کے کونے کونے میں پہنچ گئی ہے ۔ ویسے بھی جس کام کا خلوص نیت کے ساتتھ آعاز کیا جاتا ہے اللہ عزوجل اس کام کو نہ صرف کامیاب بناتے ہیں اس میں برکت بھی عطا کرتے ہیں ۔
روز نامہ سیاست نے مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کو سب سے زیادہ اہمیت دی اور اُنھیں اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھا اور جب کبھی مسلمانانِ ہند پر مصیبت آئی چاہے وہ فرقہ وارانہ فسادات کی شکل میں ہو یا پھر دستور و قانون کے نام پر اُن کی راہوں میں کھڑی کی گئی روکاوٹوں کی شکل میں کیوں نہ ہو روزنامہ سیاست نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کی قیادت و نگرانی میں مسلمانوں کی رہنمائی کا فریضہ نہ صرف بہتر انداز میں انجام دیا بلکہ اُن میں شعور بیدار کرکے ہی دم لیا ۔
نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں نے اپنے دادا اور والد محترم کی راہ اپناتے ہوئے مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی ترقی یقینی بنانے کو اپنی زندگی کا نصب العین قرار دیا ۔ اﷲ عزوجل کا شکر ہے کہ مسلمان روزنامہ سیاست پر اس قدر بھروسہ کرتے ہیں کہ جس کا تصور بھی شائد بڑے بڑے ادارے اور بڑی بڑی شخصیتیں بھی نہیں کرسکتی ۔ مسلم بچوں کی تعلیم اُن کی اسکالرشپس ، اُن کے مسائل غرض جب کبھی مسلم مفادات کے تحفظ کی بات آتی ہے تو روزنامہ سیاست اپنے مفادات کو قربان کرکے ملی مفادات کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے ۔ چنانچہ جب سارے ملک میں سی اے اے این آر سی کی بات آئی تب سیاست نے مسلمانوں کی رہنمائی میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا ۔ اسی طرح اب جبکہ ریاست تلنگانہ میں یکم اپریل سے ایس آئی آر کا عمل شروع ہورہا ہے نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں نے اپنے قائم کردہ سیاست ہب فاؤنڈیشن کے ذریعہ مسلم رائے دہندوں کی رہنمائی کیلئے ماہرین کے لیکچرس کا اہتمام کیا اور پھر دفتر روزنامہ سیاست میں خصوصی طورپر ہیلپ ڈیسک قائم کیا جہاں ملی خدمت کے پاکیزہ جذبہ سے سرشار سیاست فیملی کے ارکان مسلمانوں کی بہتر انداز میں رہنمائی کا فرض ادا کررہے ہیں ۔ اس ہیلپ ڈیسک سے جو 11 بجے دن سے شام 4 بجے تک کام کررہا ہے ہر روز زائد از 400 مرد و خواتین اور نوجوان رجوع ہورہے ہیں ۔ چونکہ اس مرتبہ ایس آئی آر 2002 ء کی فہرست رائے دہندگان کی بنیاد پر کیا جارہاہے ۔ سیاست ہیلپ ڈیسک نہ صرف 2002 ء کی فہرست رائے دہندگان میں لوگوں کے ناموں کی موجودگی ؍ عدم موجودگی کا پتہ چلا رہا ہے بلکہ اُنھیں 2002 ء کی فہرست رائے دہندگان میں موجود اُن کے ناموں پر مشتمل فہرست کا پرنٹ بھی نکال کر دے رہا ہے ۔ ساتھ ہی ایس آئی کے بارے میں رائے دہندوں کے جو سوالات جو خدشات اور اُلجھنیں ہیں اُن کے تشفی بخش جواب دے کر اُن کے خدشات و اُلجھنوں کو دور کیا جارہاہے۔
ہم نے دیکھا کہ جب بھی کوئی اہم سرکاری عمل شروع کیا جاتا ہے تو مسلمان خواب غفلت میں رہ کر عین آخری وقت ہوش میں آتے ہیں ۔ ہمارے اس رجحان کے نتیجہ میں مسلمان اکثر و بیشتر سرکاری اسکیمات سے محروم رہتے ہیں یا ان اسکیمات سے صحیح طورپر استفادہ نہیں کرپاتے ۔ واضح رہے کہ سیاست ہیلپ ڈیسک سے رجوع ہونے والے مسلم رائے دہندوں میں ایسے بہت سے رائے دہندے ہیں فہرست رائے دہندگان یا ووٹر شناختی کارڈ میں اُن کے ناموں کے ہجے غلط ہیں یا پھر نام ہی غلط پائے گئے ۔ کسی کا نام درست ہے تو کسی کے والدین کے ناموں میں غلطیاں پائی گئیں ، کسی کے پاس پاسپورٹ ہے تو کوئی ایس ایس سی سرٹیفکیٹ سے محروم ہے ۔ 2002 ء کی فہرست میں ماں کا نام ہے تو والد کا نام غائب ہے ۔ غرض ہر روز لوگ بے شمار سوالات اور اُلجھنیں لئے سیاست ہیلپ ڈیسک سے رجوع ہوتے ہیں اور تشفی بخش جوابات پاکر واپس ہوتے ہیں ۔
ایس آئی آر کا جہاں تک تعلق ہے اس بارے میں بلا خوف و خطر اور جھجک یہ کہا جاسکتا ہے کہ ملک کی کئی ریاستوں میں ایس آئی آر کے ذریعہ مسلم رائے دہندوں کے ساتھ اُن رائے دہندوں کو نشانہ بنایا گیا جو بی جے پی کے مخالفین میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں راہول گاندھی ، تیجسوی یادو ، اکھلیش یادو ، ممتا بنرجی غرض بے شمار اپوزیشن قائدین نے ببانگ دہل کہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے درمیان ساز باز ہے اور الیکشن کمیشن مودی حکومت کے اشاروں پر ناچ رہا ہے ۔ خاص طورپر راہول گاندھی نے ایک نہیں دو نہیں بلکہ تین تین مرتبہ پریس کانفرنس طلب کرتے ہوئے پاور پرزنٹیشن کے سہارے یہ ثابت کیاکہ الیکشن کمیشن مودی حکومت کے اشاروں پر کام کرتے ہوئے بے شمار رائے دہندوں کو مردہ قرار دے کر اُن کے نام فہرست رائے دہندگان سے نکال چکا ہے ۔ راہول گاندھی نے اُن افراد کے ساتھ چائے نوشی کے ویڈیوز اور تصاویر جاری کئے جنھیں الیکشن کمیشن نے مردہ قرار دیا تھا جبکہ ممتا بنرجی ای سی کے مردہ قرار دیئے گئے رائے دہندوں کو لے کر دہلی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے دفتر پہنچ گئیں لیکن اس کا چیف الیکشن کمشنر گیانیشور کمار یا الیکشن کمیشن آف انڈیا پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔
مارچ 2026 ء تک مختلف ریاستوں میں کئے گئے ایس آئی آر سے متعلق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 6.5 کروڑ سے زائد رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کردیئے گئے اور اس کے لئے تین وجوہات بتائی گئیں ، ایک وجہ یہ بتائی گئی کہ رائے دہندوں کے فوت ہونے کے باعث اُن کے نام حذف کئے گئے جبکہ ایک مقام سے دوسرے مقام منتقلی دوسری وجہ بتائی گئی ، تیسری وجہ یہ بتائی گئی کہ اُن رائے دہندوں کے نام بھی حذف کئے گئے جن کے نام ایک سے زیادہ مقامات میں درج تھے ۔ آپ کو بتادیں کہ اُترپردیش میں ایس آئی آر کے نام پر 2.89 رائے دہندوں کے نام حذف کئے گئے ۔
جنوبی ہند کی ریاست تاملناڈو میں تقریباً 97.3 لاکھ رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کردیاگیا ۔ مغربی بنگال میں 58 لاکھ تا 73 لاکھ رائے دہندوں کے نام فہرست سے نکال دیئے گئے ۔ بہار اسمبلی انتخابات سے عین قبل وہاں جو ایس آئی آر کیا گیا اس میں 65 لاکھ تا 69 لاکھ رائے دہندوں کے نام حذف کئے گئے ۔ وزْراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امیت شاہ کی آبائی ریاست گجرات میں 77 لاکھ رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کردیا گیا ۔ بی جے پی کی زیراقتدار ریاست مدھیہ پردیش میں 42.74 لاکھ ، چھتیس گڑھ میں تقریباً 27 لاکھ ، کیرالا میں 53229 اور گوا میں 1.4 لاکھ رائے دہندوں کے نام مختلف بہانوں سے حذف کئے گئے ۔ ایسے میں تلنگانہ کے رائے دہندے خاص طورپر مسلم رائے دہندوں کو چوکس رہنا ہوگا ورنہ اُن کے نام بھی مختلف بہانوں سے حذف کئے جاسکتے ہیں ، تاہم عوام چوکس رہیں تو کوئی بھی اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔