ایس آئی آر کے نام پر جمہوریت پر سب سے بڑا حملہ : سنجے سنگھ

,

   

اترپردیش میں سب سے بڑا ووٹ گھپلہ ۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی کی ملی بھگت سے 2.9 کروڑ ووٹرز ختم ہوگئے

لکھنؤ 7 جنوری (یواین آئی) عام آدمی پارٹی (عآپ) کے اتر پردیش انچارج اورراجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ اترپردیش میں ایس آئی آرکے نام پرجمہوریت پراب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا گیا ہے ۔ مسٹر سنگھ نے آج کو الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن اوربھارتیہ جنتا پارٹی کی ملی بھگت سے ریاست میں دو کروڑ 90 لاکھ سے زائد ووٹروں کے نام جان بوجھ کر ووٹر لسٹ سے کاٹ دیے گئے ہیں اوراس طرح یہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا ‘ووٹ گھپلہ’ بن گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی انتخابی اصلاحات نہیں بلکہ غریبوں، دلتوں، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اورمزدور طبقے کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دسمبر کے مہینے میں ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ دیہی ووٹر لسٹ میں 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹر درج تھے ، جب کہ چھ جنوری کو ایس آئی آر کے بعد جاری نئی لسٹ میں پورے اتر پردیش کے شہری اور دیہی علاقوں کو ملا کر صرف 12 کروڑ 55 لاکھ ووٹر دکھائے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب دسمبر میں صرف دیہی ووٹر ہی 12.70 کروڑ تھے ، تو اب شہری ووٹروں کو شامل کرنے کے بعد یہ تعداد کیسے کم ہو گئی؟ عآپ لیڈر نے الزام لگایا کہ من مانی طریقے سے مختلف زمرے بنا کر ووٹ کاٹے گئے ہیں۔ تقریباً 25 لاکھ ووٹروں کو دو جگہ نام ہونے کا بہانہ بنا کر ہٹایا گیا، 2 کروڑ سے زائد ووٹروں کو ‘شفٹڈ’ (منتقل شدہ) یا ‘ان ٹریسیبل’ (ناقابلِ رسائی) قرار دے دیا گیا اور 45-46 لاکھ لوگوں کو مردہ بتایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ 84 لاکھ ووٹروں کے نام یہ کہہ کر ہٹا دیے گئے کہ وہ گھر پر نہیں ملے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی ایل اوز پر اوپر سے دباؤ ڈال کر یہ کارروائی کرائی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ‘شفٹڈ’ دکھائے گئے لاکھوں لوگ روزگار کے لیے دہلی، ممبئی، احمد آباد، سورت، بنگلورو اور چنئی جیسے شہروں میں کام کرنے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ نہ وہاں ووٹر ہیں اور نہ اتر پردیش میں، تو ان کا ووٹ کہاں گیا؟ کیا مہاجر مزدوروں کو جمہوریت سے باہر کر دیا جائے گا؟ انہوں نے ایک ماہ میں نام دوبارہ شامل کروانے کے لیے 13 اقسام کی دستاویزات طلب کیے جانے کو ‘غریب مخالف تغلقی فرمان’ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ان پڑھ مزدور ہائی اسکول کا سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ یا زمین کے کاغذات کہاں سے لائے گا؟ یہ شرائط جان بوجھ کر اس لیے رکھی گئی ہیں تاکہ غریب طبقہ اپنے نام دوبارہ نہ جڑوا سکے ۔ عآپ ایم پی نے ایس آئی آر کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ایسی وسیع نظرثانی کرانے کا اختیار ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ عام آدمی پارٹی نے اب تک تقریباً 6,000 بی ایل او تیار کر لیے ہیں اور اسے عوامی تحریک کی شکل دی جائے گی۔ آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اپنے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے ناموں کی جانچ کریں اور ضرورت پڑنے پر فوری اندراج کروائیں، کیونکہ ووٹ کا حق بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی دین ہے ، جسے کسی بھی قیمت پر چھیننے نہیں دیا جائے گا۔