ایس ایس سی امتحانات میں اردو طلبا کی گھٹتی تعداد باعث تشویش

   

محض7ہزار 758امیدواروں کی شرکت اردوداں طبقہ کیلئے لمحہ فکر

حیدرآباد۔10۔ مئی ۔(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں اردو دوسری سرکاری زبان ہونے کے باوجود ایس ایس سی امتحانات میں شرکت کرنے والے اردو طلبہ کی گھٹتی ہوئی تعداد ریاست میں اردو کے مستقبل کے لئے تشویشناک ثابت ہونے لگی ہے۔ اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے ایس ایس سی کامیاب کرنے والے طلبہ کی تعداد میں بتدریج ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ اردو میڈیم اسکولوں کو انگریزی میڈیم میں تبدیل کئے جانے کے سبب اردو میڈیم کے ذریعہ اسکولی تعلیم حاصل کرنے والوں میں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ایس ایس سی امتحانات کے نتائج کے موقع پر جو اعداد و شمار منظر عام پر آئے ہیں وہ اردو داں طبقہ کے لئے انتہائی تشویشناک ہیںکیونکہ ایس ایس سی 2023 امتحانات میں محض7ہزار 758امیدواروں نے ریاست میں امتحان تحریر کیا ہے جن میں 5ہزار698 نے کامیابی حاصل کی ہے اس طرح اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے ایس ایس سی طلبہ کی کامیابی کا فیصد 73.45 رہا لیکن ان کی مجموعی تعداد میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی ۔ریاست میں انگریزی میڈیم کے جملہ 3لاکھ 78 ہزار10 طلبہ نے ایس ایس سی امتحانات میں حصہ لیا جن میں 3لاکھ 42 ہزار 104 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی اور تلگو میڈیم سے تعلق رکھنے والے 98ہزار 156 امیدواروں نے حصہ لیا جن میں 71ہزار 237طلبہ نے کامیابی حاصل کی ۔ انگریزی ‘ تلگو اور اردو زبان کے علاوہ دیگر زبانوں میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے ایس ایس سی امتحانات میں حصہ لینے والوں کی تعداد 446 ریکارڈ کی گئی ہے جن میں 421نے کامیابی حاصل کی ۔ ایس ایس سی نتائج کے دوران منظر عام پر آنے والے ان اعداد و شمار کے بعد اب اردو داں طبقہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی نسلوں کو اردو ذریعہ تعلیم کی فراہمی کے لئے راغب کروانے کے اقدامات کریں یا پھر کم از کم انہیں دوسری زبان اردو کے طور پر تعلیم دلوانے کے اقدامات کو یقینی بنائیں۔اردو کے فروغ اور زبان کی بقاء کے لئے اردو زبان میں تعلیم اور اردو زبان سے آگہی ناگزیر ہے ۔ اردو جاننے والوں کی تعداد میں اسی رفتار سے گراوٹ ریکارڈ کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں اردو زبان محض بول چال کی زبان میں تبدیل ہوجائے گی اور آئندہ نسلوں کے لئے اردو زبان پڑھنا اور لکھنا مشکل ہوتا چلا جائے گا۔م