انٹرمیڈیٹ میں داخلہ کیلئے فون کالس، کارپوریٹ کالجس سے تفصیلات کا حصول
حیدرآباد۔22فروری(سیاست نیوز) ایس ایس سی طلبہ کی تفصیلات کی فروخت اور اسکولوں کے انتظامیہ یا محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے اس میں ملوث ہونے کے معاملہ کی باضابطہ جانچ کے لئے فوری اقدامات کئے جانے ناگزیر ہیںکیونکہ اسکول انتظامیہ انٹرمیڈیٹ کالجس کو ایس ایس سی طلبہ ‘ ان کے والدین اور سرپرستوں کی تفصیلات حوالہ کرنے کے الزامات سے انکار کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے بیشترتمام کارپوریٹ کالجس کے پاس ایس ایس سی طلبہ ‘ سرپرستوں ‘ والدین کے فون نمبرات کے علاوہ ان کے پتہ و دیگر تفصیلات موجود ہیں جن کی بنیاد پر انہیں انٹرمیڈیٹ کالج میں داخلہ کے لئے فون کالس موصول ہونے لگے ہیں۔ ہندستان میں موجود قوانین کے مطابق ہر شخص کی تفصیلات محفوظ ہونی چاہئے اور کسی کو خواہ کسی بھی غرض سے ہو کسی کی خانگی تفصیلات فراہم نہیں کی جاسکتیں اور نہ ہی فون نمبرات کسی کے حوالہ کئے جاسکتے ہیں لیکن کارپوریٹ انٹرمیڈیٹ کالجس کی جانب سے ایس ایس سی طلبہ کی تمام تر تفصیلات حاصل کرنے کے علاوہ ان کے پتہ حاصل کرتے ہوئے انہیں ایس ایس سی امتحانات سے قبل ہی فون کالس کرتے ہوئے ان کالجس میں موجود سہولتوں اور معیار تعلیم سے واقف کرواتے ہوئے یہ بھی کہا جا رہاہے کہ کالجس کی شاخ ان کے مکانات کے قریب بھی موجود ہے۔ طلبہ اور والدین کو موصول ہونے والے یہ کالس اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرکردہ کارپوریٹ کالجس ایس ایس سی میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تمام تر تفصیلات حاصل کرنے لگے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کالجس کے خلاف کسی بھی طرح کی کاروائی کے بجائے اس طرح کی مارکٹنگ کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ اس سلسلہ میں محکمہ تعلیم بالخصوص انٹرمیڈیٹ بورڈ کو کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ ایس ایس سی امتحانات کے ٹائم ٹیبل کے اعلان سے قبل کئی ایس ایس سی طلبہ کے مکانات پر باضابطہ مختلف کالجس کی مارکٹنگ ٹیم کے اراکین نے پہنچ کر انہیں ایس ایس سی کوئسچن بینک فراہم کرتے ہوئے ان کی تفصیلات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا حالانکہ ایس ایس سی طلبہ کے نام کے ساتھ ان کے مکان پہنچنے والے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ سروے کے دوران تفصیلات حاصل کررہے ہیں جو کہ بالکلیہ طور پر بے بنیاد ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق محکمہ تعلیم میں جاری بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں میں ایس ایس سی طلبہ کی تفصیلات (ڈاٹا) فروخت کرنا بھی ایک بہت بڑا اسکام ہے کیونکہ محکمہ تعلیم کے پاس ہی ایس ایس سی طلبہ کی وہ تمام تر تفصیلات موجود ہوتی ہیں جن کے ذریعہ نہ صرف طلبہ بلکہ سرپرستوں اور والدین کے پتہ پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔3