روزنامہ سیاست کا تلگو کوئسچن بینک سود مند ، شیخ بڑے صاحب کی خدمات کی ستائش
حیدرآباد ۔ 2 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : ریاست میں دسویں جماعت کے نتائج کے اعلان کے بعد ناکامی کے فیصد سے تشویش پیدا ہوگئی ہے ۔ ناکام طلبہ کے فیصد اور وجوہات کچھ حیران کردینے والے حقائق کا سبب بنی ہے ۔ دسویں جماعت میں طلبہ مشکل سمجھے جانے والے مضامین ریاضی یا سائنس نہیں بلکہ مادری زبان میں کمزور مظاہرہ کے سبب ناکام ہوئے ہیں ۔ ریاست کی پہلی و اکثریتی مادری زبان تلگو میں طلبہ کا کمزور مظاہرہ حیرت کا سبب بنا ہوا ہے ۔ اکثر تلگو زبان سے عدم واقفیت اور بول چال میں کمی کے سبب اقلیتی طلبہ کو ہمیشہ پریشانی کا سامنا رہا اور انہیں نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ۔ لیکن جاریہ سال ایس ایس سی کے نتائج نے ہر گوشہ میں تشویش پیدا کردی ہے ۔ ایک طرف لاک ڈاؤن سے طویل عرصہ کے بعد اسکولس کی کشادگی اور تعلیمی نظام میں عدم توازن کو بہانہ بنایا جارہا ہے تو دوسری طرف اپنی خامیوں کو چھپانے خانگی اسکولس میں اساتذہ کے فقدان کو ایک وجہ بتا رہے ہیں ۔ حالانکہ طلبہ نے تلگو کے علاوہ دیگر مضامین میں بہترین مظاہرہ کیا ۔ گریڈ پوائنٹ ایوریج ( جی پی اے ) میں طلبہ نے 8 اور 9 تک ایوریج حاصل کیا ۔ لیکن تلگو میں کمزور مظاہرہ خود ان کی مایوسی کا سبب بن گیا ۔ تلگو میں بہتر مظاہرہ کیلئے ہر سال اقلیتی طلبہ کیلئے روزنامہ سیاست سے تلگو زبان میں ایس ایس سی کوئسچین بنک تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ طلبہ کو رہنمائی اور قوم و ملت کی بہترین تعمیر ہوسکے جس کے بہترین نتائج حاصل ہورہے ہیں ۔ تلگو سے محبت اور لگاؤ اور فروغ تلگو کیلئے عنبر پیٹ کے ساکن شیخ بڑے صاحب نے نمایاں خدمات انجام دیں ہیں ۔ ایک مسلم ٹیچر کی جانب سے ملک کی دارالحکومت کے ایک اسکول اے ای ایس این ٹی راما راؤ میموریل سنٹر سکنڈری اسکول چانکپوری نئی دہلی میں تلگو کے فروغ کیلئے اقدامات کی ستائش کی گئی ۔ تلگو سے عدم واقفیت رکھنے والے طلبہ میں تلگو زبان کے فروغ کے اقدامات آندھرا ایجوکیشن سوسائٹی دین دیال اوپادھیا مارگ نئی دہلی نے ان کی خدمات کی سراہنا کی ریاست میں جاریہ سال دسویں جماعت کے طلبہ کا تلگو زبان میں مادری زبان کے باوجود کمزور مظاہرہ تعلیمی حلقوں کے علاوہ اولیائے طلبہ میں بھی تشویش کا سبب بنا ہوا ہے ۔ دیگر مضمون میں بہتر مظاہرہ کرنے والے طلبہ کا تلگو زبان میں کمزور مظاہرہ خانگی اسکولس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے ۔ اکثر اسکولس میں ہفتہ میں دو یا تین دن کلاسیس منعقد کی جاتی ہیں ۔ جو طلبہ کی ناکامی اور مادری زبان پر عبور میں خامیوں کی سبب سے بڑی وجہ تصور کی جارہی ہے ۔ اکثر طلبہ میں سوالات کو سجھ کر صحیح جواب دینے کی بھی صلاحیت کا فقدان ان نتائج کی وجوہات میں شامل حال رہا ہے ۔۔ ع