نئی دہلی، 11 اگست (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو ہٹائے جانے کے بعد پیدا ہوئے نئے حالات کے درمیان وزیر خارجہ ایس جے شنکر اتوار کو چین کے تین روزہ دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ کشمیر مسئلے کے سلسلے میں پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے پیش نظر وزیر خارجہ کے دورے کو کافی اہم سمجھا جا رہا ہے ۔وزیر خارجہ بننے کے بعد ڈاکٹر جے شنکر (64) کا چین کا یہ پہلا دورہوگا۔ اگرچہ وہ یکم جون 2009 سے یکم دسمبر 2013 تک چین میں ہندوستانی سفیر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ وہ سال 1977 میں ہندوستان کی خارجہ سروس میں شامل ہوئے تھے اور چین کے علاوہ امریکہ اور چیک جمہوریہ میں ہندوستانی سفیر اور سنگاپور میں ہائی کمشنر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ڈاکٹر جے شنکر بھی ہندوستان۔چین اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے ۔ اجلاس کی صدارت چین کے وزیر خارجہ وانگ بھی شامل ہوں گے ۔وزیر خارجہ کا دورہ چین ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کچھ دن پہلے ہی چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان ہوا چوئیگ نے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے ردعمل میں کہا تھا کہ ‘‘چین، کشمیر کے موجودہ حالات پر سنجیدہ ہے ’’۔چین کے اس بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا تھاکہ ‘‘ ہندوستان کسی بھی ملک کے اندرونی معاملے پر تبصرہ نہیں کرتا ہے اور دیگر ممالک سے بھی ایسی ہی امید کرتا ہے ’’۔روس سمیت کئی ممالک نے ہندوستان کے اس اقدام کی تعریف کی ہے جس میں دفعہ 370 کو ختم کرکے جموں و کشمیر کے خصوصی ریاست کے درجہ کو ختم کر دیا گیا ہے اور آئین کے تحت اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں لداخ اور جموں و کشمیر میں تقسیم کیا گیا ہے ۔