وائس چانسلر اور رجسٹرار سے استعفی کا مطالبہ
حیدرآباد۔/20 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) انگلش اینڈ فارن لینگویجس یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ نے زبردست احتجاج منظم کیا۔ وہ ایک طالبہ کے ساتھ چہارشنبہ کی رات مبینہ جنسی ہراسانی کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ طلبہ تنظیم اسپرش سے پرامن احتجاج منظم کیا گیا جس میں یونیورسٹی کو جنسی ہراسانی اور تشدد کے واقعات سے نجات دلانے اقدامات کی اپیل کی گئی۔ احتجاجیوں نے الزام عائد کیا کہ تنظیم کے یونیورسٹی آرڈیننس کے تحت تشکیل کے باوجود پروفیسرس لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے ہیلت سنٹر کے قریب 18 اکٹوبر کی رات طالبہ سے بدسلوکی کی گئی اور وہ تشویشناک حالت میں پائی گئی۔ اس واقعہ پر حکام کی بے حسی کو نشانہ بناتے ہوئے 400 سے زائد طلبہ نے دھرنا منظم کیا جس میں خاطیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کرکے وائس چانسلر، رجسٹرار اور پروکٹر کے استعفی کی مانگ کی گئی۔ پروکٹر نے طلبہ کے مطالبات کو مسترد کردیا اور کہا کہ واقعہ کا سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہیں ہے۔ پروکٹر کی جانب سے اسے معمولی واقعہ قرار دینے پر طلبہ میں برہمی پائی جاتی ہے۔ پولیس نے یونیورسٹی پہنچ کر احتجاجی طلبہ کو منتشر کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے بعض طلبہ کو حراست میں لیا اور دوسروں کو منتشر ہونے کی ترغیب دی۔