ایل آر ایس اسکیم ‘غیر زرعی جائیدادوں کے رجسٹریشن میں اہم رکاوٹ

   

23 نومبر سے رجسٹریشن سے عوام و رئیل اسٹیٹ شعبہ کو فائدہ نہیں، اسکیم سے دستبرداری کا مطالبہ
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات سے عین قبل رئیل اسٹیٹ شعبہ کو خوش کرنے کیلئے حکومت نے 23 نومبر سے غیر زرعی اراضیات اور جائیدادوں کے رجسٹریشن کے آغاز کا اعلان کیا ۔ حکومت کے اس اعلان سے صرف ایسی اراضیات اور جائیدادوں کا رجسٹریشن ممکن ہو پائے گا جن کا لے آؤٹ بلدیہ سے منظورہ ہے۔ شہر میں اراضیات اور جائیدادوں کی اکثریت ایسی ہے جن کا لے آؤٹ بلدیہ سے منظورہ نہیں ہے ۔ حکومت سے لے آؤٹ ریگولرائیزیشن اسکیم کے تحت درخواستیں حاصل کی ہیں، جن کی یکسوئی کیلئے کئی ماہ درکار ہوں گے ۔ ایسے میں 23 نومبر سے رجسٹریشن کے آغاز سے عوام اور رئیل اسٹیٹ تاجرین کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔ کورونا وباء کے آغاز کے بعد سے معاشی انحطاط کے نتیجہ میں رئیل اسٹیٹ کاروبار بری طرح متاثر ہوا تھا۔ ان لاک سرگرمیوں کے آغاز کے بعد اراضی اور جائیدادوں کی خرید و فروخت کا آغاز ہونے کو تھا کہ اچانک حکومت نے دھرانی پورٹل کی تیاری کے نام پر رجسٹریشن کا عمل روک دیا ۔ اسی دوران لے آوٹس کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم کا اعلان کیا گیا جس کے تحت ریاست بھر میں لاکھوں درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ اب جبکہ لے آؤٹ کی منظوری کا عمل باقی ہے ، ایسے میں رجسٹریشن کے آغاز سے رئیل اسٹیٹ شعبہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ معاشی پریشانیوں کے تحت کئی خاندان اپنی جائیدادوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں ایل آر ایس اسکیم کی شرط رجسٹریشن میں اہم رکاوٹ ثابت ہوگی۔ رئیل اسٹیٹ تاجرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلدی انتخابات سے قبل ایل آر ایس اسکیم سے دستبرداری کا اعلان کرے۔ 23 نومبر سے شروع ہونے والے رجسٹریشن میں لے آوٹ کی منظوری کی شرط سے استثنیٰ دیا جائے تاکہ اراضیات اور جائیدادوںکی خرید و فروخت بحال ہوسکے۔ حکومت نے ایک طرف رجسٹریشن کی بحالی کا اعلان تو کردیا لیکن لے آوٹس کی منظوری کی شرط سے رجسٹریشن کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔