خریدی کی مالیت کے تحت چارجس ، شہر کی ترقی پر 67,000 کروڑ خرچ کئے گئے
حیدرآباد: حکومت نے اراضیات کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم ایل آر ایس کے درخواست گزاروں کیلئے بڑی راحت کا اعلان کیا ہے ۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے اسمبلی میں اعلان کیا کہ ایل آر ایس سے متعلق جی او 131 میں ترمیم کرتے ہوئے جمعرات کو نیا جی او جاری کیا جائے گا ۔ ارکان اسمبلی نے شہری ترقی کے مسئلہ پر مباحث ایل آر ایس اسکیم سے عوام پر امکانی بوجھ سے واقف کرایا ۔ ارکان اسمبلی کی توجہ دہانی پر کے ٹی آر نے کہا کہ غریب اور متوسط افراد کا خیال کرتے ہوئے حکومت جی 131 میں ترمیم کرے گی ۔ سابق میں رجسٹریشن کے موقع پر اراضی کی جو مالیت تھی ، اسی کے مطابق چارجس وصول کرنے کیلئے احکامات جاری کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اراضی کے رجسٹریشن کے وقت جو مارکٹ ویلیو تھی ، اسی کے مطابق ریگولرائیزیشن چارجس رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ لے آؤٹ کی عدم منظوری سے ناواقف رہتے ہوئے جن افراد نے ارا ضیات خریدی ہیں، وہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ شہری اور دیہی علاقوں میں غیر مجاز لے آوٹس اور لے آؤٹس کے بغیر خریدے گئے پلاٹس کو باقاعدہ بنانے کا یہ بہترین موقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر تک اسکیم سے استفادہ کی گنجائش رہے گی ۔ ریگولرائزیشن کی صورت میں حکومت کی جانب سے برقی ، آبرسانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کو فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر تک درخواستیں داخل کرنے والے افراد 31 جنوری تک ریگولرائزیشن فیس ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سرکاری اراضیات ، اربن لینڈ سیلنگ اراضیات ، وقف انڈومنٹ اور تالابوں اور جھیلوں کی اراضیات پر ایل آر ایس اسکیم کا اطلاق نہیں ہوگا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حیدرآباد شہر کو عالمی ترقی یافتہ شہر کی حیثیت سے ترقی کیلئے حکومت اقدامات کر رہی ہے ۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد حکومت نے شہری ترقی کے کام میں تیزی پیدا کی ہے۔ تلنگانہ میں 42.6 فیصد شہری علاقے ہیں۔ حکومت نے 74 نئی میونسپلٹیز اور 7 نئے میونسپل کارپوریشن قائم کرتے ہوئے شہری ترقی کی راہ ہموار کی ۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے ساتھ ساتھ امن و ضبط کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے اقدامات کئے گئے ۔ حکومت کی جانب سے ہر ماہ جی ایچ ایم سی کو 78 کروڑ اور دیگر میونسپالٹیز کو 70 کروڑ جاری کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام کے بعد سے آج تک حیدرآباد کی ترقی پر 67,000 کروڑ سے زائد کی رقم خرچ کی گئی ۔ ریاست کی معاشی ترقی میں حیدرآباد کا اہم رول ہے۔ حیدرآباد میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کیلئے خصوصی قدم اٹھائے گئے ۔ زائد ٹریفک والے علاقوں میں فلائی اوورس اور انڈر پاس تعمیر کئے جارہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں میٹرو ٹرین کو توسیع دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ نئے بلدی قانون کے تحت مکانات کی تعمیر کیلئے اجازت میں سہولت پیدا کی گئی ہے۔ انہوں نے بستی دواخانوں اور پارکس کی ترقی جیسے اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ مختلف سروے میں حیدرآباد رہائش کیلئے بہترین شہر کی حیثیت سے منظر عام پر آیا ہے ۔ حیدرآباد کو موسٹ ڈائنمک سٹی کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ ایک کروڑ کی آبادی پر مشتمل حیدرآباد میں عوام کیلئے تمام بنیادی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کانگریس دور حکومت میں حیدرآباد کی ترقی کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں شہر کی ترقی پر 4636 کروڑ خرچ کئے گئے جبکہ ٹی آر ایس حکومت نے گزشتہ 6 برسوں میں 67130 کروڑ خرچ کئے ہیں۔ 18,000 کروڑ کے خرچ سے ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کئے جارہے ہیں۔ حیدرآباد میں 9714 کروڑ سے مکانات کی تعمیر کا کام جاری ہے ۔ ڈسمبر تک ایک لاکھ مکانات تقسیم کئے جائیں گے۔