ایم ایل سی آکولہ للیتا کی میعاد 3 جون کو ختم

   

دوبارہ انتخاب کیلئے کوشاں، کوویڈ سے انتخابات ملتوی
نظام آباد :قانون ساز کونسل کی رکن آکولہ للیتا کی معیاد 3؍ جون کو ختم ہونے کے بعد دوبارہ انتخاب کیلئے کوشاں ہے ۔ کوویڈ کے باعث مرکزی الیکشن کمیشن نے انتخابات کو ملتوی رکھا ہے کانگریس کی جانب سے ارکان کے زمرہ میں منتخب ہونے والی آکولہ للیتا کا انتخاب 2018 ء کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی جانب سے آرمور حلقہ سے مقابلہ کیا تھا ناکامی کے بعد آکولہ للیتا نے ٹی آرایس پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس وقت چیف منسٹر چندر شیکھر رائو نے انہیں انہیں دوبارہ ایم ایل سی کی حیثیت سے منتخب کرنے کا تیقن دیا تھا۔ لیکن اس درمیان ٹی آرایس پارٹی میں کئی تبدیلیاں ہوئی ہے اور پارلیمانی انتخابات کے موقع پر تلگودیشم کے سینئر قائد سابق ریاستی وزیر مانڈوا وینکٹیشور رائو کوچیف منسٹر کے سی آر نے ٹی آرایس میں شامل کیا تھا اور اس وقت چیف منسٹر نے انہیں ایم ایل سی کی حیثیت سے منتخب کرنے کا تیقن دیا تھا۔ آکولہ للیتا کا تعلق نظام آباد ضلع کے ماکلور منڈل کے مانک بھنڈار سے ہے انہوں نے ایم پی ٹی سی کی حیثیت سے پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے منڈل پرجا پریشد کی صدر اور بعد میں ضلع پریشد کی رکن ڈچپلی حلقہ سے انتخابات ایم ایل اے کی حیثیت سے منتخب ہوئے تھیں اور کانگریس پارٹی میں سرگرم تھیں اور راجیہ سبھا رکن ڈی سرینواس کی قریبی حامیوں میں شمار کی جاتی تھیں۔ ڈی سرینواس کی ایم ایل سی کی معیاد ختم ہونے کے بعد آکولہ للیتا نے اپنے طور پر کوشش کرتے ہوئے قانون ساز کونسل کی ارکان اسمبلی کے زمرہ میں منتخب ہوئی تھیںاور ڈی سرینواس کانگریس سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد بھی یہ کانگریس میں برقرار تھیں۔ اور 2018 ء میں چیف منسٹر کے تیقن پر ٹی آرایس میں شمولیت اختیار کی تھی ان کی معید کے اختتام کے بعد یہ اپنے جدوجہد کو جاری رکھی ہوئی ہے لیکن اس کے علاوہ ٹی آرایس میں ایم ایل سی کیلئے زبردست سرگرمیاں دیکھی جارہی ہے۔ ضلع ٹی آرایس صدر ایگا گنگاریڈی، ریاستی اقلیتی سیل کے صدر ایم کے مجیب الدین، سابق ایم ایل سی ارکالہ نرساریڈی کے علاوہ کسان یونین کے لیڈر نرسمہا نائیڈو بھی عہدہ کیلئے کوشاں ہے ۔ ان حالات میں چیف منسٹر کا فیصلہ اہمیت کا حامل ہوگا۔