مسلم اور کرسچن ارکان کی میعاد ختم، دونوں طبقات کے غیر سیاسی قائدین بھی سرگرم، الیکشن کے پیش نظر فیصلہ اہمیت کا حامل
حیدرآباد۔/28 مئی، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر گورنر کوٹہ کی 2 ایم ایل سی نشستوں پر امیدواروں کے انتخاب کے سلسلہ میں مختلف گوشوں سے زبردست دباؤ کا سامنا ہے۔ گورنر کوٹہ کی ایم ایل سی نشستوں پر ارکان فاروق حسین اور ڈی راجیشور راؤ کی میعاد کل ختم ہوچکی ہے جس کے بعد ان نشستوں کے دعویداروں نے اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے۔ چیف منسٹر نے گذشتہ ہفتہ کابینی اجلاس میں امیدواروں کے ناموں پر مشاورت کا فیصلہ کیا تھا لیکن لمحہ آخر میں کے سی آر نے اپنا ارادہ تبدیل کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ سال اسمبلی انتخابات کے پیش نظر دونوں نشستوں کیلئے دعویداروں کی کثرت نے چیف منسٹر کیلئے فیصلہ کرنے میں دشواری پیدا کردی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں مخلوعہ نشستیں اقلیتی ارکان کی ہیں۔ ڈی راجیشور راؤ کرسچن کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں ایسے میں ایک مسلمان اور ایک کرسچن کو دوبارہ نامزد کرنے یا پھر ان کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے دیگر قائدین کو کونسل کی رکنیت دینے سے متعلق فیصلہ آسان نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ میعاد ختم ہونے والے دونوں ارکان نے دوبارہ نامزدگی کی خواہش کی ہے لیکن چیف منسٹر اس کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ کرسچن کمیونٹی کے کئی دعویدار ایسے ہیں جن کا تعلق عیسائی تنظیموں سے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر کی جانب سے سابق میں کوشک ریڈی کی امیدواری کو مسترد کئے جانے کے تلخ تجربہ کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر کلین امیج رکھنے والے پارٹی قائدین یا پھر غیر سیاسی افراد جن میں دانشور شامل ہیں انہیں کونسل بھیجنے پر غور کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ علحدہ تلنگانہ تحریک میں کے سی آر کے ساتھ شانہ بہ شانہ جدوجہد کرنے والی ایک مسلم مذہبی جماعت کے سابق صدر نے ایم ایل سی نشست کیلئے اپنی دعویداری پیش کی ہے اور اس سلسلہ میں وزیر فینانس ہریش راؤ کو سفارش کرنے کی درخواست کی گئی۔ ان کے علاوہ بعض اقلیتی اداروں کے صدورنشین بھی کونسل کی رکنیت کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ کرناٹک میں مسلمانوں نے جس طرح کانگریس کی تائید کی اگر تلنگانہ میں کانگریس کی تائید سے مسلمانوں کو روکنا ہو تو پھر ٹی آر ایس کو ایک نشست مسلمان کیلئے الاٹ کرنی ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ بی آر ایس کا امیدوار سیاسی ہوگا یا غیر سیاسی اس بارے میں کے سی آر نے اپنا ذہن کسی پر واضح نہیں کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مجوزہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر امیدواروں کے ناموں پر فیصلہ ہوگا اور ایسے امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی جو اپنی کمیونٹیز کی تائید پارٹی کیلئے حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایم ایل سی نشست کیلئے پارٹی کے جو قائدین دوڑ میں آگے ہیں ان میں سابق وزراء ٹی ناگیشور راؤ، این نرسمہلو، سابق ایم ایل سی کے پربھاکر، سابق رکن اسمبلی این اوڈیلو، سابق صدرنشین اسپورٹس اتھارٹی بھکشمیا گوڑ، وینکٹیشور ریڈی شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ یونائٹیڈ کرسچن اینڈ پاسٹرس اسوسی ایشن کے صدر سولومن راج اور دوسری عیسائی تنظیموں کے قائدین نے بھی اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ تلنگانہ میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی مجموعی آبادی تقریباً 18 فیصد ہے اور کے سی آر الیکشن میں 18 فیصد کی تائید سے محروم ہونا نہیں چاہیں گے۔ انہیں اندیشہ ہے کہ اگر فیصلہ کرنے میں غلطی ہوجائے تو اس کا اثر نتائج پر پڑے گا۔ر