ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس داخلوں میں مقامی طلبہ کو بڑی راحت

   

اندرون ایک ہفتہ رہائشی سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی مہلت، ہائی کورٹ ڈیویژن بنچ کے احکامات

حیدرآباد۔/30اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کورسیس میں تقررات سے متعلق مقامی اور غیر مقامی تنازعہ کی یکسوئی کردی ہے۔ چیف جسٹس الوک ارادھے اور جسٹس ٹی ونود کمار پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی آف ہیلت سائنسیس کو ہدایت دی ہے کہ اندرون ایک ہفتہ رہائشی سرٹیفکیٹ پیش کرنے والے امیدواروں کو مقامی شمار کیا جائے۔ حکومت کے کسی عہدیدار مجاز کی جانب سے جاری کردہ رہائشی سرٹیفکیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے امیدواروں کو ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کورسیس میں مقامی کے طور پر شمار کرتے ہوئے داخلہ دیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ دونوں کورسیس میں مقامی امیدواروں کو میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا جائے۔ ہائی کورٹ نے امیدواروں کو اس فیصلہ کے ذریعہ بڑی راحت دی ہے۔ عدالت نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجس میں داخلوں سے متعلق قوانین 2017 کو ناقابل عمل قرار دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ داخلوں سے متعلق رول3(III)(B) غیر دستوری ہے تاہم عدالت نے اسے کالعدم قرار نہیں دیا۔ حکومت کے قواعد کے مطابق ایسے امیدوار جنہوں نے چار برسوں تک یعنی نویں، دسویں اور انٹر میڈیٹ کی تعلیم تلنگانہ میں حاصل کی ہے وہ مقامی امیدوار کے طور پر داخلہ حاصل کرنے کے اہل ہیں۔ ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس میں مقامی کوٹہ کے تحت 85 فیصد نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایک اور رول کے تحت داخلوں کیلئے امیدواروں کو 7 برسوں تک تلنگانہ میں تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے۔ ہائی کورٹ نے اس شرط کو بھی برقرار رکھا اور کہا کہ شرط کی برخاستگی کی صورت میں غیر مقامی امیدواروں کے داخلوں کا راستہ کھل جائے گا۔ کئی طلبہ اور ان کے سرپرستوں نے مقامی امیدواروں کیلئے موجودہ شرائط کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ سینئر کونسل بی میور ریڈی کے مطابق تلنگانہ کا کوئی بھی امیدوار جس نے انٹر میڈیٹ کی تعلیم کسی اور ریاست میں حاصل کی ہے جبکہ اسکولی تعلیم تلنگانہ میں حاصل کی تو وہ مقامی کوٹہ کے تحت داخلہ کا مستحق رہے گا۔ عدالت نے کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی آف ہیلت سائنسیس کو ہدایت دی ہے کہ آئندہ ایک ہفتہ میں رہائشی سرٹیفکیٹ پیش کرنے والے امیدواروں کو مقامی کوٹہ میں داخلہ دیا جائے۔ سینئر کونسل کے رام کرشنا ریڈی نے طلبہ کی جانب سے پیروی کی۔