سال 2015 میں حکومت تلنگانہ سے منظوری کا دعویٰ : ٹی ہریش راؤ
حیدرآباد۔11۔نومبر(سیاست نیوز) مرکزی وزیر سیاحت جی کشن ریڈی جھوٹے پروپگنڈہ کے ذریعہ ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ایمس کی منظوری کے معاملہ میں جی کشن ریڈی نے جو بیان دیا ہے وہ بے بنیا د ہے کیونکہ 20جنوری 2015کو حکومت کی جانب سے بی بی نگر میں ایمس کے لئے اراضی مختص کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے احکامات جاری کردیئے گئے تھے ۔ وزیر فینانس و صحت مسٹر ٹی ہریش راؤ نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران مرکزی وزیر جی کشن ریڈی پر شدید برہمی کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ وہ کس طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ ریاستی حکومت نے تلنگانہ میں ایمس کیلئے اراضی فراہم کرنے سے قاصر رہی ہے ۔انہو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اراضیات مختص کئے جانے کے باوجود بھی ایمس کو منظوری نہیں دی گئی اور تلنگانہ میں میڈیکل کالجس کے قیام کے معاملہ میں مرکزی حکومت کی جانب سے دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہاہے جو کہ افسوسناک ہے۔ بی بی نگر نمس کو ایمس کیلئے مختص کرنے کے علاوہ ریاستی حکومت کی جانب سے 201 ایکڑ اراضی کی تخصیص کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن ا س کے باوجود تلنگانہ کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ مسٹر ہریش راؤ نے بتایا کہ تلنگانہ میں تشکیل تلنگانہ کے وقت 5 میڈیکل کالجس تھے لیکن اب 21 میڈیکل کالجس ہیں جو کہ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ انہو ںنے جی کشن ریڈی سے غیر مشروط معذرت خواہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کشن ریڈی مرکزی وزارت میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد تلنگانہ کے مفادات کے تحفظ میں ناکام ہوچکے ہیں اور وہ بے بنیاد پروپگنڈہ کے ذریعہ ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ تقسیم ریاست قانون میں تلنگانہ کے لئے ایمس کی منظوری کے علاوہ بیارم اسٹیل فیاکٹری کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست کیلئے ایک بھی میڈیکل کالج کو منظوری نہیں دی گئی اور نہ ہی بیارم اسٹیل فیاکٹری کو منظوری فراہم کی گئی ہے جو کہ تقسیم ریاست قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ مسٹر ہریش راؤ نے بتایا کہ اگر تلنگانہ میں بیارم اسٹیل فیاکٹری کو منظوری فراہم کی جاتی تو ایسی صورت میں ریاست کے ہزاروں نوجوانوں کو ملازمتوں کا حصول ممکن تھا ۔ وزیر فینانس و صحت نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے پکوان گیاس پر ویاٹ کے نفاذ کے الزامات کو ثابت کرنے کے چیالنج کو قبول نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس مسئلہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی جواب دینے کے موقف میں ہے۔م