ایمگریشن میں تاخیر، امریکہ میں کئی غیر ملکی طلبہ کا مستقبل غیر یقینی

   

ویزا اور ایمگریشن کے عمل میں تاخیر سے نوکریوں کا حصول متاثر

واشنگٹن: شہریت اور ایمگریشن کے امریکی محکمے ‘یونائٹیڈ اسٹیٹس سٹیزن شپ اینڈ ایمگریشن سروسز’ (یو ایس سی آئی ایس) کے دفاتر میں ویزوں اور ایمگریشن سے متعلق درخواستوں کو نمٹانے کے عمل میں تاخیر بین الاقوامی طلبہ کے لیے ان کے ایمگریشن اسٹیٹس کو مشکلات سے دوچار کر رہی ہے۔وائس آف امریکہ نے کچھ طلبہ سے گفتگو کی ہے اور ان کی درخواست پر ان کے اصل نام صیغہ راز میں رکھتے ہوئے فرضی ناموں کے ساتھ ان کے مسائل بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ 27 سال کی چینی شہری ایما امید سے ہیں اور اپنے شوہر کے ساتھ نیویارک میں رہتی ہیں۔ ایمونول کی عمر 23 سال، مراقش سے تعلق ہے اور ورجینیا میں مقیم ہیں۔ 31سالہ پیٹر بھی چین سے 2014 میں ترکِ وطن کر کے امریکہ آئے تھے اور وہ ہیوسٹن، ٹیکساس میں مقیم ہیں۔ ان تمام طلبہ کی کہانی اور مسائل ایک جیسے ہیں۔ویزا اور ایمگریشن کے عمل میں تاخیر ان کے لیے نوکریوں کی پیشکش قبول کرنے کی اہلیت کو متاثر کر رہی ہے کیوں کہ بعض کمپنیاں آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ (او پی ٹی) کی درخواست کی رسید طلب کرتے ہیں۔یہ رسید طلبہ کو اپنی تعلیم سے متعلقہ شعبے میں ایک سال تک کام کرنے کی عارضی اجازت دیتی ہے۔یہ رسیدی نوٹس عام طور پر ‘یو ایس سی آئی ایس’ میں درخواست پہنچنے کے بعد ہفتوں کے اندر بھجوا دیا جاتا ہے۔یہ وہ ابتدائی مرحلہ ہے جو ایمگریشن سے متعلق درخواست پر غوروخوض سے بھی پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ اس عمل کے بغیر ایمگریشن کا ادارہ کسی درخواست دہندہ کا نام اور پٹیشن بھی اپنے کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں حاصل نہیں کر سکتا۔