آر ایس ایس کے سہ روزہ اجلاس کا آغاز ، کشمیر کو خصوصی موقف کے آرٹیکل 370 کی تنسیخ کا خیرمقدم
پشکر ۔ 7 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس نے اپنے اجلاس میں اور حلیف تنظیموں کے ساتھ آسام این آر سی کی قطعی فہرست سے لاکھوں حقیقی شہریوں کے نام حذف کردیئے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے شہری جن کے نام قطعی فہرست سے غائب ہیں ان میں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔ ذرائع نے کہا کہ آر ایس ایس اور اس کی حلیفوں نے آسام میں شہریوں کے قومی رجسٹر کی 31 اگست کو شائع شدہ قطعی فہرست کا جائزہ لیا۔ اس فہرست سے تقریباً 19 لاکھ افراد کے نام غائب ہیں ۔ آر ایس ایس اور اس سے ملحقہ 35 تنظیموں کے تقریباً 200 مندوبین لوک سبھا انتخابات کے بعد منعقدہ اپنے پہلے رابطہ اجلاس میں شرکت کررہے ہیں ۔ بی جے پی کے کارگزار صدر جے پی نڈا ، جنرل سکریٹری (تنظیمی امور) بی ایل سنتوش اور جنرل سکریٹری رام مادھو اس اجلاس میں شرکت کررہے ہیں ۔ آر ایس ایس نے بالخصوص پڑوسی ریاستوں سے آسام میں آباد ہونے والے حقیقی ہندوستانی شہریوں کے ناموں کے قطعی این آر سی سے اخراج پر تشویش ظاہر کی ۔ اس اجلاس میں جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کی تنسیخ اور وادی کی مابعد صورتحال پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ ارکان سنگھ پریوار نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کیلئے مودی حکومت کے فیصلے کی پرجوش ستائش کی۔ آر ایس ایس اجلاس آج جنرل سکریٹری بھیاجی جوشی کے خطاب سے شروع ہوا ۔ اس کے 14 سیشن ہوں گے ۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اختتامی روز 9 ستمبر کو خطاب کریں گے ۔