این آر سی میں میاریج سرٹیفکیٹ اہم دستاویزی ثبوت

   

تلنگانہ وقف بورڈ میں مسلم جوڑوں کو صداقت ناموں کی اجرائی کی تیاری
حیدرآباد /3 جنوری ( سیاست نیوز ) ایک ایسے وقت جب شہریوں کے قومی رجسٹر ( این آر سی ) کے ضمن میں مسلمانوں کے ذہنوں میں تشویش اور اندیشے بڑھ رہے ہیں ۔ تلنگانہ وقف بورڈ ممکنہ حد تک شادیوں کے صداقت نامے ( میریج سرٹیفکیٹس ) کی اجرائی کی تیاریاں کر رہا ہے کیونکہ میریج سرٹیفکیٹ بھی ایک ایسی دستاویز ہے جو آسام میں منعقدہ حالیہ این آر سی مہم کے دوران شہریت کے ثبوت کے طور پر قبول کی گئی تھی ۔ علاوہ ازیں وقف بورڈ کی طرف سے جاری کئے جانے والے اس صداقت نامے سے نہ صرف ایک جوڑے کی توثیق ہوتی ہے بلکہ ان کی ولدیت کی بھی توثیق ہوجاتی ہے ۔ علاوہ ازیں دلہا اور دلہن کی نیجی تفصیلات جیسے تعلیمی قابلیت ، پیشہ ، تاریخ پیدائش ، مقام پیدائش وغیرہ بھی شامل کرتا ہے ۔ 1954 کے مرکزی وقف قانون کے تحت قائم کردہ تمام ریاستی وقف بورڈس کی طرف سے جاری کئے جانے والے صداقت ناموں کو قانونی حیثیت حاصل رہتی ہے ۔ یہ صداقت نامے نہ صرف ہندوستان کے مختلف اداروں اور پاسپورٹ کی اجرائی کیلئے بلکہ تمام بیرونی ممالک کی طرف سے ویزا کی اجرائی کیلئے بھی جائز اور قابل قبول سمجھے جاتے ہیں ۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بعض مسلم خواتین باضابطہ رسمی اسکولی تعلیمی قابلیت نہیں رکھتیں انہیں بھی یہ میاریج سرٹیفکیٹس مددگار ثابت ہوسکتے ہیں ۔ کئی مسلم افراد جو 1980 سے قبل پیدا ہوئے ہیں اور جن کے پاس پیدائشی صداقت نامے نہیں ہیں وہ بھی اپنے میاریج سرٹیفکٹس کا استعمال کرسکتے ہیں ۔ آندھراپردیش اور تلنگانہ میں 30 سال سے کم عمر لاکھوں مسلم افراد کے پاس اپنے تعلیمی اور پیدائشی صداقت نامے موجود ہے جو اپنے والدین سے ربط کی توثیق کیلئے بھی کام آسکتے ہیں ۔ جس کے باوجود بھی کسی رکاوٹ کی صورت میں میاریج سرٹیفکیٹ یہ مشکل آسان کرسکتے ہیں ۔