شہریت ترمیمی قانون پر عوام کے شدید ردعمل کے بعد حکومت عوامی غصہ پر قابو پانے کوشاں
حیدرآباد /21ڈسمبر ( سیاست نیوز ) شہریت ترمیمی قانون کے بعد مجوزہ این آر سی کے متعلق جاری عوامی بے چینی پر کیا مرکزی حکومت کوئی فیصلہ دے گی چونکہ شہریت ترمیمی بل قانونی شکل اختیار کرنے کے بعد ملک کے حالات بدل گئے ہیں اور ہر طرف بے چینی کا ماحول اور احتجاج پایا جاتا ہے اور اس احتجاج میں بلا لحاظ مذہب و ملت ہندوستانی شہری دستور کے تحفظ میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں ۔ تاہم ابھی بھی عام شہریوں میں آسام کے حالات کو دیکھتے ہوئے این آر سی کا خوف پایا جاتا ہے ۔ تاہم اس خوف سے مرکزی حکومت بھی محفوظ نہیں ہے ۔ چونکہ جس طرح سے شہری اس پر ردعمل ظاہر کر رہے ہیں شائد مرکزی حکومت کو اس کا اندازہ نہیں تھا ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے این آر سی کے فوائد کے چند اشارے اپنے ذرائع سے ظاہر کرنا شروع کردیا ہے ۔ حالانکہ ابھی تک این آر سی کو ملک بھر میں نافذ کرنے کی کوئی قطعی شکل نہیں دی گئی ہے ۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ جو این آر سی ملک بھر میں نافذ ہوگا وہ آسام طرز کا نہیں ہوگا ۔ ریاست آسام چونکہ پہلے پاکستان و بنگلہ دیش کا حصہ رہ چکا ہے اس لحاظ سے وہاں شرائط کچھ سخت تھے بلکہ ملک بھر میں ایسی صورتحال نہیں رہے گی ۔ یہ بھی سمجھا جارہا ہے کہ خود مرکزی حکومت بھی آسام جیسی سخت شرائط کی ہمت نہیں جٹا سکتی ۔ آسام تقریباً ساڑھے تین کروڑ آبادی والی ریاست ہے ۔ جہاں این آر سی پر عمل آوری کیلئے حکومت کو ناکوں چنے چبانے پڑے لہذا حالات کو دیکھتے ہوئے این آر سی کے خد و قال اور شرائط کو مرکزی حکومت نے ذرائع سے ظاہر کر دیا ہے ۔ تاہم اس کی تصدیق مشکل ہی ہوگی ۔ ملک بھر میں نافذ کی جانے والی این آر سی کیلئے شہری کو قدیم دستاویزات والدین کی جائے پیدائش نہیں بلکہ اب صرف آدھار کارڈ ، بیمہ اسکیم ، پاسپورٹ ، زرعی اراضی سے متعلق دستاویزات اسکولنگ یا پھر ہاسپٹل ڈیٹ آف برتھ سرٹیفکیٹ ضروری ہوگا ۔ اصل پریشانی اس بات کی ہے کہ ایسے شہری جو دیہی علاقوں میں رہتے ہیں یا پھر کسی وجہ سے شہری علاقوں میں رہنے کے باوجود ان کے پاس دستاویزات نہیں ہیں یا پھر کسی وجہ سے گم ہوچکے ہیں اور وہ این آر سی میں پیش نہیں کرسکتے تو انہیں چاہئے کہ وہ جو بھی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں اس کمیونٹی کے دو ذمہ دار اشخاص کی جانب سے ان کی تصدیق کرنی ہوگی ۔ یعنی ان کے ہندوستانی ہونے کی گواہی دینا ہوگا ۔ شہریت ترمیمی بل کو قانونی شکل دینے کے بعد رونما ہوئے حالات کے بعد مرکزی حکومت اب شائد این آر سی میں جلد بازی کرنا نہیں چاہتی اور شائد اسی وجہ آسام سے مختلف شرائط کو ظاہر کرتے ہوئے شہریوں کی بے چینی کو دور کرنا اور ان کے غصہ پر قابو پانا چاہتی ہے ۔