غیر قانونی مہاجرین کی نشاندہی کا حساس عمل مکمل، ریاست میں امن برقرار: وزارت داخلہ
نئی دہلی ۔ 14 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہفتہ کے دن بعض سراری عہدیداروں ن ے بتایا کہ قومی شہری رجسٹر کی حتمی اشاعت سے قبل مرکز نے آسام میں 10 ہزار نیم فوجی سپاہی تعینات کئے تھے لیکن ان دستوں کو قومی رجسٹر کی اجرائی کے بعد واپس طلب ک رلیا گیا ۔ یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا چونکہ NRC کی 31 اگست کو اشاعت کے بعد آسام میں تشدد کا کوئی واقعہ نہیں ہوا جس سے شمال مشرقی ریاست کی ہندوستانی شہریت ثابت ہوگی لیکن قطعی این آر سی جس کی تجدید کی گئی تھی اس میں 19 لاکھ درخواست گزاروں کے نام شامل نہیں ہیں ۔ آسام میں امن و امان کو دیکھتے ہوئے ریاست کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں جمعہ کے دن وزارت داخلہ نے اس کا ایک بار پھر جائزہ لیا گیا جائزے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ آسام سے نیم فوجی دستوں کی100 کمپنیوں کو واپس طلب کرلیا جائے ۔ حتمی این آر ایس کے مطابق آسام میں شہریت کے درخواست گزاروں کی تعداد 3.3 کروڑ بتائی گئی ۔ حتمی فہرست میں 3.11 کرو ڑ روپیوں کے نام شامل تھے اور تقریباً 19 لاکھ ساکنوں کے نام نکال دیئے گئے ۔ جن لوگوں کے نام آخری فہرست میں شامل نہیں ہیں، انہیں غیر ملکیوں کے ٹریبونلس میں 120 دن کے اندر اپیل داخل کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ٹریبونل کے فیصلہ سے اگر کوئی مطمئن نہیں ہے تو وہ اس غلطی کی اصلاح کیلئے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع ہوسکتا ہے۔حکومت نے کہا ہے کہ اس عمل میں کسی بھی حقیقی اور مستحق ہندوستانی کو کوئی مسئلہ کا سامنا نہیں ہوگا، اگر کسی کا نام اس فہرست میں شامل نہیں ہوسکا ہے تو وہ متبادل انتظامات سے بھرپور استفادہ کرسکتے ہیں۔