آسام میں سخت صیانتی انتظامات، این آر سی کے خلاف اپیل کی مہلت میں توسیع
گوہاٹی /29 اگست (سیاست ڈاٹ کام) قطعی این آر سی کی /31 اگست کو اشاعت سے پہلے آسام کی پولیس نے جمعرات کے دن عوام سے اپیل کی کہ بعض عناصر کے جو سماج میں الجھن پیدا کرنا چاہتے ہیں ، کی پھیلائی ہوئی افواہوں پر یقین نہ کریں ۔ پولیس نے کہا کہ حکومت نے کافی حفاظتی انتظامات کئے ہیں تاکہ قطعی این آر سی کی اشاعت سے پہلے کوئی گڑبڑ نہ ہونے پائے ۔ صیانتی انتظامات ریاست گیر سطح پر زیادہ کردیئے گئے ہیں اور تعزیرات ہند کی دفعہ 144 آسام کے مختلف علاقوں میں امن اور نظم و نسق عامہ برقرار رکھنے کیلئے نافذ کردیا گیا ہے ۔ غیرقانونی بنگلہ دیشیوں کی ریاست میں دراندازی کا انسداد بھی اس قانون کے نفاذ کا مقصد ہے ۔ تمام افراد کے شناختی کارڈوں کی جانچ کی جارہی ہے تاکہ ان کے آسام کے شہری ہونے کی توثیق کی جاسکے ۔ کسی ناخوشگوار صورتحال کے گریز کے مقصد سے پولیس نے ایک 5 نکاتی مشورہ بھی جاری کیا ہے ۔ جس کے بموجب این آر سی میں اگر کسی فرد کا نام شامل نہ کیا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے غیرملکی قرار دیا گیا ہے ۔ ہر شخص کیلئے اس کے خلاف اپیل کرنے کی گنجائش موجود ہے ۔ اپیل داخل کرنے کی قطعی آخری مہلت میں اشاعت کی تاریخ سے 60 دن کو بڑھاکر 120 دن کردیا گیا ہے ۔ تمام ضرورتمند افراد کو حکومت کی جانب سے قانونی امداد فراہم کی جائے گی ۔ اگر ان کے نام قومی شہریت کے رجسٹر سے حذف کردیئے جائیں ۔ مقامی افراد مقررہ مراکز پر اپنی شکایتیں درج کرواسکتے ہیں ۔ دریں اثناء حکومت آسام نے صیانتی نظام کو چست اور درست بنانے کے تمام انتظامات مکمل کرلئے ہیں ۔ چیف منسٹر سربانندا سونو وال نے کہا کہ /23 اگست کی نظم و قانون کی صورتحال پر ایک اجلاس میں جس میں تمام ڈپٹی کمشنرس اور تمام اضلاع کے سپرنٹنڈنٹ پولیس شرکت کریں گے جائزہ لیا جائے گا ۔