قطعی فہرست میں نام شامل نہ ہونے کے باوجود روزگار، تعلیم، جائیداد وغیرہ پر ہندوستانی شہریوں کے مماثل حقوق برقرار : وزیرداخلہ
نئی دہلی 2 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکز نے پیر کو واضح طور پر کہاکہ آسام میں شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) کی قطعی فہرست سے خارج افراد کو اُس وقت تک حراست میں نہیں رکھا جائے گا جب تک شہریت ثابت کرنے کے لئے دستیاب تمام قانونی راستے ختم نہیں ہوجاتے۔ وزارت اُمور داخلہ نے کہاکہ این آر سی کی قطعی فہرست سے خارج شدہ ان تمام ضرورت مند افراد کو حکومت آسام کی طرف سے مکمل قانونی امداد بہم پہنچانے کے لئے تمام ضروری انتظامات کئے گئے ہیں جو افراد اپنا نام درج کروانا چاہتے ہیں۔ وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’این آر سی کی قطعی فہرست میں ناموں کی شمولیت سے محروم افراد کو اُس وقت تک تحویل میں نہیں لیا جائے گا جب تک اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اُنھیں دستیاب تمام قانونی راستے ختم نہیں ہوجاتے‘۔ ایسے (این آر سی سے خارج) افراد کسی بھی ہندوستانی شہری کے مماثل محصولہ حقوق مثلاً حق روزگار و ملازمت، تعلیم و جائیداد وغیرہ سے بدستور استفادہ کرتے رہیں گے جنھیں ان معاملات میں ہرگز روکا نہیں جائے گا۔ فہرست میں شمولیت سے محروم افراد کو خارجی باشندوں کے ٹریبونل میں اپیل کرنے کے لئے خاطر خواہ قانونی و عدالتی وسائل دستیاب رکھے گئے ہیں۔ وہ 31 اگسٹ کو این آر سی قطعی فہرست کی تاریخ سے آئندہ 120 دن تک اس ٹریبونل سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اپیل کنندوں کی سہولت کے لئے آسام میں پہلے سے واقع 100 ایف ٹی کے علاوہ پھر سے 200 نئے خارجی ٹریبونل کارکرد کئے گئے۔ این آر سی کی ہفتہ کو جاری کردہ قطعی فہرست کے مطابق 3.3 کروڑ درخواست گذاروں کے منجملہ 3.11 کروڑ درخواست گذاروں کو فہرست میں شامل کرلیا گیا۔ تقریباً 19 لاکھ افراد کے نام خارج کردیئے گئے۔ آسام کے چیف منسٹر سربانندا سونوال نے جمعہ کو کہا تھا کہ این آر سی کی قطعی فہرست سے کوئی نام خارج ہوجانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب وہ ازخود بیرونی باشندہ بن گیا ہے بلکہ مناسب قانونی عمل کے بیرونی باشندوں کے ٹریبونل کی طرف سے کوئی قطعی فیصلہ ہوگا۔ چیف منسٹر سونوال نے واضح طور پر کہا تھا کہ ’کسی کو بھی خوف و اندیشوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر کسی کی دیکھ بھال کے لئے یہاں اُن کی حکومت موجود ہے۔ حتیٰ کہ جن کے نام قطعی فہرست سے خارج رہیں گے اُنھیں بھی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کے خاطر خواہ مواقع دیئے جائیں گے‘۔