این پی آر اور مردم شماری ملتوی ، رقم کو واپس کرنے کا فیصلہ، ٹیکہ اندازی کے بعد سروے کی تجویز

   

حیدرآباد۔24 نومبر(سیاست نیوز) این پی آر اور مردم شماری کو جاریہ سال کے لئے ملتوی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے رجسٹرار جنرل آف انڈیا نے محکمہ فینانس کی جانب سے جاری کردہ 3ہزار 768 کروڑ روپئے محکمہ فینانس کوواپس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے ہر 10 سال میں ایک مرتبہ کروائے جانے والی مردم شماری کا آخری مرحلہ سال 2011میں مکمل کیا گیا تھا اور ملک میں 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سال 2021 میں مردم شماری کروائی جانی تھی لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے مردم شماری کے ساتھ این پی آر یعنی نیشنل پاپولیشن رجسٹر کی بھی تیاری کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا اورسی اے اے ‘ این آر سی کے احتجاج کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سیاسی منصوبہ پر عمل آوری کے اقدامات کئے جانے لگے تھے ۔ مردم شماری کے ساتھ این پی آر کے لئے علاقائی ڈائریکٹرس کو ہدایات بھی جاری کی جاچکی تھیں لیکن سال 2020میں کورونا وائرس کی وباء کے بعد ملک بھر میں ہونے والے لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں مردم شماری اور این پی آر کا عمل روک دیا گیا جبکہ اگر ان تیاریوں کو جاری رکھا جاتا تو 2021 فروری کے دوران ملک بھر میں این پی آر اور مردم شماری کا کام مکمل کرلیا جاتا۔ رجسٹرار جنرل آف انڈیا نے بتایا کہ مردم شماری اور این پی آر کو جاریہ سال کیلئے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس فیصلہ کے بعد اس مقصد کیلئے مختص کی گئی رقم 3ہزار768 کروڑ وزارت فینانس کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2021 کے دوران کی جانے والی مردم شماری کیلئے عصری ٹیکنالوجی کے استعمال کے اقدامات کئے گئے تھے اور روایتی انداز میں دو مرحلوں میں مردم شماری اور این پی آر کے عمل کو مکمل کرنے کے اقدامات کی حکمت عملی تیار کی گئی تھی لیکن دنیا بھر میں صورتحال کی تبدیلی کے ساتھ ہی ان کاموں کو عارضی طور پر ملتوی کردیا گیا ہے اور اس سال مردم شماری اور این پی آر کا عمل نہیں ہوگا۔ انہوںنے بتایا کہ مردم شماری ایکٹ 1948کے تحت دو مرحلوں میں یہ عمل مکمل کیا جاتا ہے جو کہ مکانات کے اندراجات کا عمل اپریل تاستمبر 2020 کے دوران کیا جانا تھا اور 9تا28فروری 2021کے دوران مردم شماری کا عمل مکمل کیا جانا چاہئے تھا۔ اسی طرح اس کے ساتھ قانون حق شہریت 1995 کے اندراجات بھی مکمل کئے جانے تھے جو نہیں ہوپایا ہے۔ ذرائع کے مطابق رجسٹرار جنرل آف انڈیا نے مرکزی وزارت داخلہ کو روانہ کردہ مکتوب میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ ملک کے مختلف شہروں میں عملہ کو تربیت کی فراہمی کے اقدامات میں مصروف ہیں لیکن گھر گھر سروے کے امکانات ابھی موہوم ہیں کیونکہ ملک بھر میں ٹیکہ اندازی کی تکمیل کے بعد ہی عملہ کو گھر گھر روانہ کرنے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ رجسٹرار جنرل آف انڈیا مسٹر ویویک جوشی نے تربیت کی فراہمی اور ڈاٹا جمع کرنے کیلئے قائم کئے گئے مراکز کے دوروں کا آغاز کردیا ہے اور گذشتہ دنوں انہوں نے مغربی بنگال کے مرکز کا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ دہلی ‘ لکھنؤ‘ بنگلورو کے علاوہ دیگرشہروں میں بھی مراکز کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے۔م