پانچ جسم فروش یوگانڈہ کی لڑکیاں گرفتار ، پولیس کی گاہک کے بھیس میں کارروائی
حیدرآباد :۔ اینٹی ہیومن ٹرائفکنگ یونٹ راچہ کنڈہ نے ایک آن لائن بین الاقوامی ریاکٹ کو بے نقاب کردیا ۔ جو قحبہ گری بردہ فروشی اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھا ۔ خفیہ اطلاع پر پولیس نے کارروائی انجام دی اور 5 جسم فروشی یوگانڈہ کی لڑکیوں کو گرفتار کرلیا ۔ جو ڈیٹنگ سائیٹ کے ذریعہ جسم فروشی کا ریاکٹ چلا رہی تھی ۔ اینٹی ہومن ٹرائکنگ یونٹ اور چیتنیہ پوری پولیس نے کارروائی انجام دیتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا ۔ پولیس خود گراہک بن گئی اور اس سازش کا پردہ فاش کردیا۔ پولیس کی کارروائی میں 35 این ملی عرف ناگابلد شیخ برکت ویلدکوہ ستار کالونی ٹولی چوکی کے علاوہ 36 سالہ این فلورینس یہ دونوں آرگنائزس بتائے گئے ہیں کہ علاوہ 23 سالہ سارا نموانچے ، 25 سالہ نلوگا اولیور اور 25 سالہ ناکابھو بھی کو گرفتار کرلیا ۔ ان لڑکیوں کا تعلق یوگانڈہ سے بتایا گیا ہے ۔ جو ہندوستان ٹورسٹ ویزا پر آئے تھے ۔ اور ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی غیر قانونی طور پر مقیم تھے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے ۔ ملی مارچ 2021 میں ممبئی سے حیدرآباد منتقل ہوئی تھی جو اس جسم فروشی کے ریاکٹ کی اصل سرغنہ ہے اور ایک مکان ٹولی چوکی کے علاقہ میں حاصل کیا اور 15 ہزار کرایہ دے رہی تھی ۔ اس نے خرابی صحت کے سبب لاحق مالی دشواریوں کو دورکرنے کے لیے اس نے جسم فروشی کے کاروبار کا آغاز کیا اور آن لائن گراہکوں کی تلاش شروع کردی ۔ اپنی ساتھی لڑکیوں کو اس کاروبار میں جھونکتے ہوئے اس نے آغاز کردیا ۔ ڈیٹنگ سائیٹ پر گاہکوں کو راغب کرنے والی نیم عریاں تصاویر کو پیش کرتے ہوئے فون نمبرات پر رابطہ کی پیشکش کی جس کے بعد گاہک سے 5 ہزار تا 15 ہزار روپئے لیے جاتے ۔ یہ جسم فروش لڑکیاں ڈرگس بھی استعمال کرتی تھیں ۔ پولیس نے انہیں گرفتار کرتے ہوئے ان کے قبضہ سے کیٹامائن 5 گرام نامعلوم ڈرگ 17 گرام پانچ ہزار پانچ سو روپئے نقد رقم اور 5 سیل فون ضبط کرلیا ۔۔