ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے مواخذہ کی منظوری

,

   

۔215 ڈیموکریٹس اور5 ریپبلکنس کی تحریک مواخذہ کو تائید،صدر امریکہ مشکلات میں

واشنگٹن :صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف تحریک مواخذہ کی کارروائی شروع ہو گئی ہے، اور ان کیلئے مشکلیں کم ہونے کی بجائے بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔ ایوان نمائندگان میں ووٹنگ کے دوران نہ صرف 215 ڈیموکریٹس، بلکہ 5 ریپبلکنز نے بھی ٹرمپ کے خلاف تحریک مواخذہ کی حمایت کی ہے۔ تحریک مواخذہ کے لیے 218 ووٹوں کی ہی ضرورت ہوتی ہے، اس طرح سے ٹرمپ کو صدر عہدہ سے ہٹانے کی راہ ہموار ہوتی نظر آ رہی ہے۔واضح رہے کہ ٹرمپ کے خلاف یہ تحریک مواخذہ ڈیموکریٹس نے پارلیمنٹ پر گزشتہ دنوں ہوئے اس حملہ کے بعد لا ئی ہے جس میں پانچ لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے۔ کیپٹل ہل تشدد کیلئے ٹرمپ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور ٹرمپ کی پارٹی ریپبلکنز کے بھی کئی قائدین ان کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ تحریک مواخذہ کیلئے پیر کے روز کارروائی شروع ہوئی تھی اور آج 215 ڈیموکریٹس کے اراکین پارلیمنٹ اور 5 ریپبلکن اراکین نے ٹرمپ کے خلاف تحریک مواخذہ کی حمایت کی ہے۔ اس درمیان ہاؤس کے میجوریٹی لیڈر ہویر نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ تحریک مواخذہ کے لیے آرٹیکل امریکی سینیٹ کو فوری طور پر بھیجیں گے۔قابل ذکر ہے کہ تحریک مواخذہ ہاؤس آف ریپریزنٹیٹو سے پاس ہونے کے بعد سینیٹ کے لیے بھیجا جاتا ہے اور پھر سینیٹ میں اراکین جوری کی طرح کام کریں گے۔ گویا کہ ہویر کے ذریعہ تحریک مواخذہ آرٹیکل امریکی سینیٹ میں بھیجے جانے کے بعد سینیٹ اراکین ٹرمپ کو بری کرنے یا قصوروار ٹھہرانے کیلئے ووٹنگ کریں گے۔ اگر ٹرمپ کو قصوروار ٹھہرانے کے حق میں زیادہ ووٹ پڑیں گے تو انھیں صدر عہدہ سے ہٹا دیا جائیگا۔ ان کی جگہ نائب صدر مائک پینس لیں گے، لیکن آئندہ 20 جنوری کو امریکی صدر کا تاج نومنتخب صدر جو بائڈن کے سر سجے گا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ امریکی تاریخ میں ایسے پہلے صدر بن گئے ہیں جن کیخلاف ایک ہی مدت کار میں دو بار تحریک مواخذہ کی کارروائی ہوئی ہے۔
اس درمیان نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق سینیٹ کے لیڈر میک کونیل کا ماننا ہے کہ ٹرمپ نے تحریک مواخذہ کی کارروائی کے لائق کام کیا ہے اور ان کے خلاف یہ کارروائی ہونی ہی چاہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو ٹرمپ کے جال سے باہر نکلنا چاہیے۔