نئی دہلی ۔ 24 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے جمعرات کے دن ایودھیا مقدمہ کے ہندو فریق کو اجازت دی کہ وہ اس تنازعہ کے سلسلہ میں اپنا تحریری نوٹ عدالت میں داخل کرے جو 2.77 ایکڑ اراضی کی ملکیت کے بارے میں ہو۔ عدالت کا خیال ہیکہ ہندو اور مسلم فریق دونوں ہی اپنی ملکیت ثابت کرنے سے قاصر رہے۔ اومیش چندر پانڈے جو اس فریق کی پیروی کررہے تھے، کہا کہ یو پی سنی سنٹرل وقف بورڈ جس کا ذکر ایودھیا مقدمہ میں بنچ کے اجلاس پر آچکا ہے، کہا تھا کہ جو مسائل اٹھائے گئے ہیں وہ عقائد کی بنیاد پر حل نہیں کئے جاسکتے۔ پانچ رکنی دستوری بنچ نے جس کی صدارت چیف جسٹس آف انڈیا کررہے تھے، الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ پر نظرثانی کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ بی شیکھر نے ایک فریق پانڈے کی پیروی کرتے ہوئے اجازت طلبی کی تھی کہ جمعرات کے دن تحریری نوٹ پیش کیا جائے گا۔