وقف بورڈ کی دستبرداری پر صدمہ ، آر ایس ایس کو ہندوؤں کی تائید میں فیصلہ کی امید ،الجھن پیدا کرنے کا وی ایچ پی کا الزام
نئی دہلی ۔ /18 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سنی وقف بورڈ کے سوائے ایودھیا مقدمہ کے دیگر تمام فریقین نے جمعہ کے دن واضح کردیا کہ وہ سپریم کورٹ کی مقرر کردہ ثالثی پیانل کے سمجھوتہ کو تسلیم نہیں کریں گے اور ایودھیا اراضی ملکیت تنازعہ کے مقدمہ سے سنی وقف بورڈ کے دستبردار ہونے کی ابتداء پر انہیں صدمہ پہونچا ہے ۔ یہ خبر تمام ذرائع ابلاغ اداروں اور اخبارات میں شائع کی گئی ہے کہ یو پی سنی سنٹرل وقف بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایودھیا مقدمہ سے دستبردار ہونے کیلئے تیار ہے جبکہ مسلم فریقین کی جانب سے ایک بیان شائع کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے ’’اس کے مطابق ہم قطعی طور پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ جن فریقین نے سپریم کورٹ کے اجلاس پر اپیلیں داخل کی تھیں اس تجویز کو قبول نہیں کرتے جو ذرائع ابلاغ کو بھی معلوم ہوچکی ہے اور نہ ثالثی کے طریقہ کار سے ہم متفق ہیں اور نہ جس انداز میں سمجھوتہ کیلئے سنی وقف بورڈ کے مقدمہ سے دستبرداری کی شرط رکھی گئی ہے اس سے اتفاق کرتے ہیں ۔ بھوبنیشور سے موصولہ اطلاع کے بموجب آر ایس ایس نے آج امید ظاہر کی کہ رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد اراضی ملکیت تنازعہ کے مقدمہ کی ہندوؤں کے حق میں فیصلہ سنایا جائے گا جبکہ وی ایچ پی نے اس بات کی تردید کی کہ اس نے ثالثی کے فیصلہ کو منظور کرلیا ہے یا ثالثی کے عمل میں شرکت کی ہے ۔ اس نے کہا کہ یہ دراصل عوام میں الجھن پیدا کرنے کی ایک شرپسندی پر مبنی کوشش ہے ۔