ایودھیا کے بعد اب متھرا تنازعہ ،عدالت میں درخواست

,

   

شاہی عیدگاہ مسجد ہٹانے شری کرشن براجمان کا مطالبہ

متھرا: پچھلے سال ایودھیا میں بابری مسجد ملکیت اراضی مقدمہ میں ملی جیت کے بعد اب متھرا میں شری کرشن براجمان نے بھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ متھرا کی عدالت میں ایک سیول مقدمہ دائر کرکے شری کرشن براجمان نے اپنی جنم بھومی آزاد کرانے کی آواز اٹھائی ہے۔اس درخواست کے ذریعہ 13.37 ایکڑ کرشن جنم بھومی کا مالکانہ حق مانگا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جنم بھومی کی زمین پر مغل دور میں ’’ قبضہ‘‘کر کے شاہی عیدگاہ بنا دی گئی تھی۔ عرضی میں شاہی عیدگاہ مسجد کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ ایودھیا کے رام للا براجمان کی طرح شری کرشن براجمان کی طرف سے وکیل رنجنا اگنی ہوتری نے (نیکسٹ فرینڈ) سرپرست کے طور پر دائر کیا ہے۔ عرضی میں کرشن کے 6 بھکتوں کے نام بھی مدعی کے طور پر شامل ہیں اور یہ مقدمہ ’بھگوان شری کرشن براجمان، واقع کٹرا کیشو دیو کھیوٹ، متھرا‘ کے نام پر دائر کیا گیا ۔ یہاں یہ تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ ایودھیا کیس میں سپریم کورٹ سے پچھلے سال نومبر میں فیصلہ آنے کے بعد سے ہی ایک فریق اب کاشی اور متھرا کے معاملے میں بھی مسلسل منصوبہ بنا رہا ہے۔ اسی ضمن میں ابھی کچھ دن پہلے پریاگ راج میں اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کی میٹنگ میں سادھو سنتوں نے متھرا میں کرشن جنم بھومی اور کاشی وشو ناتھ مندر کو لے کر تبادلہ خیال کیا تھا۔واضح رہے کہ پارلیمنٹ سے ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991‘ کی منظوری کے بعد بابری مسجد کے علاوہ کسی بھی دوسرے مذہبی مقام کے حوالہ سے مالکانہ حقوق کا مقدمہ دائر نہیں کیا جا سکتا۔ اس قانون کے مطابق بابری مسجد۔رام جنم بھومی تنازعہ میں مالکانہ حقوق کے مقدمہ کو استثنیٰ رکھا گیا تھا جبکہ متھرا اور کاشی سمیت اس طرح کے تمام تنازعات پر مقدمہ بازی پر روک لگا دی گئی تھی۔ اس قانون کے مطابق 15 اگست 1947 ء کے بعد سے جو مذہبی مقامات جس فرقہ سے وابستہ ہیں وہ آج اور مستقبل میں بھی اسی فرقہ کے رہیں گے۔