ایٹالہ راجندر اور وجئے شانتی کے درمیان ٹوئیٹر پر لفظی جنگ

   

کرناٹک کے بعد تلنگانہ میں امید رکھنے والی قومی قیادت پارٹی قائدین کے جھگڑوں سے پریشان
حیدرآباد ۔ 31 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : بی جے پی کی قومی قیادت کرناٹک میں شکست کے بعد جنوبی ہند میں اپنے قدم جمانے کے لیے تلنگانہ کو زر خیز زمین تصور کررہی ہے ۔ مگر تلنگانہ بی جے پی قائدین میں گروپ بندیوں اور اختلاف سے پریشان ہے ۔ ہر دو دن میں بی جے پی کے قائدین ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھول دیئے ہیں ۔ اب بی جے پی کے رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر اور فلم اسٹار سے سیاستداں بن جانے والی سابق رکن پارلیمنٹ وجئے شانتی کے درمیان ٹوئیٹر پر لفظی جنگ شروع ہوچکی ہے ۔ تلنگانہ وزارت سے بیدخلی کے بعد بی جے پی کے تمام قائدین ایٹالہ راجندر کو بی جے پی میں شامل کرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا وہ تمام قائدین اب ایٹالہ راجندر کے خلاف ہوگئے ہیں ۔ ایٹالہ راجندر نے دو ہفتے قبل دہلی پہونچکر بی جے پی کی قومی قیادت سے ملاقات کرتے ہوئے تلنگانہ بی جے پی صدر کے علاوہ دوسرے قائدین کی شکایت کرچکے ہیں ۔ چند دنوں سے وجئے شانتی ٹوئیٹر پر ایٹالہ راجندر کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں ۔ بی جے پی کی قومی قیادت نے ایٹالہ راجندر کو دوسرے پارٹی قائدین کو بی جے پی میں شامل کرنے والی کمیٹی کا چیرمین نامزد کیا ہے ۔ حال ہی میں ایٹالہ راجندر نے پی سرینواس ریڈی اور جے کرشنا راؤ سے بات چیت کرتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہونے کا مشورہ دیا ۔ جس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ یہ دونوں قائدین بی جے پی میں شامل نہیں ہوں گے ۔ جس پر وجئے شانتی نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس کام کے لیے ایٹالہ راجندر کو کمیٹی کا صدر بنایا گیا تھا وہ اس میں پوری طرح ناکام ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دوباک اور جی ایچ ایم سی میں بی جے پی کی کامیابی کمیٹی کی وجہ سے نہ ہونے کا ٹوئیٹ کیا ۔ بی جے پی کی کامیابی جان نچھاور کرنے والے کارکنوں سے ہوئی ہے ۔ بی جے پی میں مخبر کون ہے اس کی وضاحت کرنے کا بھی ایٹالہ راجندر سے مطالبہ کیا ہے ۔۔ ن