ٹی آر ایس کو 83167 ووٹ ، کانگریس کی ضمانت ضبط، ابتدائی راؤنڈ سے بی جے پی کو سبقت حاصل، حیدرآباد اور اضلاع میں جشن
حیدرآباد۔/2نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کی سیاست میں اہم رول ادا کرنے والے حضورآباد ضمنی چناؤ میں بی جے پی امیدوار ایٹالہ راجندر نے بھاری اکثریت سے کامیابی درج کی ہے۔ رائے شماری کے اختتام پر راجندر کو اپنے قریبی حریف ٹی آر ایس امیدوار جی سرینواس پر 23855 ووٹوں کی اکثریت حاصل تھی۔ کانگریس نے ضمانت بچانے کی کوشش کی لیکن اسے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور آزاد امیدواروں کے مساوی ووٹ کانگریس کو حاصل ہوئے۔ رائے شماری کے اختتام پر اطلاعات کے مطابق راجندر کو 107022 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ ٹی آر ایس کو 83167 ووٹ ملے۔ کانگریس کے بی وینکٹ کو 3014 ووٹ ملے اور ان کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ایٹالہ راجندر 2004 سے مسلسل ساتویں مرتبہ حضورآباد سے منتخب ہوئے۔ حضورآباد کے نتیجہ پر سیاسی حلقوں میں تجسس پایا گیا اور آج صبح 8 بجے کریم نگر کے ایس آر آر ڈگری کالج میں رائے شماری کا آغاز ہوا۔ ابتداء میں 753 پوسٹل بیالٹ کی گنتی کی گئی جس میں ٹی آر ایس کو 455 اور بی جے پی کو242 ووٹ حاصل ہوئے۔ پوسٹل گنتی کے بعد ٹی آر ایس حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہیں امید تھی کہ ای وی ایم مشینوں کے ووٹ بھی ان کے حق میں رہیں گے لیکن پہلے راؤنڈ سے ہی راجندر نے اپنی سبقت کو برقرار رکھا۔ 21 راؤنڈ میں صرف 2 راؤنڈ ایسے تھے جس میں ٹی آر ایس امیدوار کو راؤنڈ میں شمار کئے گئے ووٹوں میں معمولی اکثریت حاصل ہوئی۔ آٹھویں راؤنڈ میں 162 اور گیارہویں راؤنڈ میں 367 ووٹوں کی ٹی آر ایس کو اکثریت ملی جبکہ باقی تمام راؤنڈس راجندر کے حق میں تھے۔ راجندر نے 4 جون کو ٹی آر ایس سے استعفی دیا جبکہ 12 جون کو اسمبلی کی رکنیت سے استعفی پیش کردیا تھا جس کے باعث ضمنی چناؤ یقینی ہوگیا۔ راجندر نے 14 جون کو بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد سے حضورآباد حلقہ میں عملاً اپنی مہم کا آغاز کردیا۔ رائے شماری کے مرکز کے اطراف300 سے زائد پولیس ملازمین کے ساتھ سخت سیکوریٹی انتظامات کئے گئے تھے۔ کمشنر پولیس ست نارائنا کی نگرانی میں حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے اور دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکام نافذ تھے۔ رائے شماری کیلئے ایک ہال میں 7 ٹیبل رکھے گئے تھے۔ 2 ہالس میں جملہ 14 ٹیبل پر 14 ای وی ایم مشینوں کے ووٹوں کی گنتی کی جارہی تھی۔ 22 راؤنڈس میں رائے شماری مکمل ہوئی تاہم صبح سے ہی بی جے پی کے حامیوں میں جوش و خروش دیکھا گیا جبکہ ٹی آر ایس کے کاؤنٹنگ ایجنٹس ہر ٹیبل پر ایک، ایک ووٹ کیلئے جدوجہد کررہے تھے۔ہر راؤنڈ میں بی جے پی کی سبقت مختلف رہی۔ ابتدائی 10 راؤنڈس میں پہلا راؤنڈ بی جے پی کیلئے خوش قسمت ثابت ہوا اور راجندر نے 166 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی کی سمت پیش قدمی کی۔ دوسرے راؤنڈ میں 193 ووٹوں کی اکثریت ملی۔ اس کے بعد سے ان کی اکثریت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا اور گیارہویں راؤنڈ سے اختتام تک ہر راؤنڈ میں 1000 سے 3000 تک کی اکثریت حاصل رہی۔ واضح رہے کہ 30 اکٹوبر کو رائے دہی ہوئی تھی جو ریکارڈ تعداد میں رہی۔ 2018 میں 84 فیصد رائے دہی ہوئی تھی جبکہ اس مرتبہ 2.5 فیصد زائد رائے دہی یعنی 86.57 فیصد درج کی گئی۔حضورآباد اور کریم نگر ٹاؤن میں صبح سے ہی بی جے پی کے کارکن کامیابی کا جشن منارہے تھے۔ ایٹالہ راجندر اور دیگر امیدوار رائے شماری کے آغاز سے اختتام تک کاؤنٹنگ سنٹر میں موجود رہے۔ رائے شماری کے اختتام کے فوری بعد کاؤنٹنگ سنٹر کے باہر بی جے پی کے حامیوں نے زبردست آتشبازی کی۔ حضورآباد ضمنی چناؤ ٹی آر ایس اور بی جے پی دونوں کیلئے وقار کا مسئلہ بن چکا تھا۔اطلاعات کے مطابق کئی اضلاع میں بی جے پی کی جانب سے کامیابی کا جشن منایا گیا۔ حیدرآباد میں بی جے پی کارکنوں نے گن پارک پہنچ کر شہیدان تلنگانہ کو خراج پیش کیا۔ر