چیف منسٹر کے ساتھ جاری تنازعہ کا نیا موڑ۔ سابق ریاستی وزیر کی حامیوں سے مشاورت کا آغاز
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو اور ایٹالہ راجندر کے درمیان جاری تنازعہ نے آج اس وقت نیا موڑ لے لیا جب چیف منسٹر کی سفارش سے گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے راجندر کو ریاستی کابینہ سے خارج کرنے احکام جاری کردئے ۔ میدک ضلع کے اچم پیٹ میں اراضی پر ناجائز قبضہ کے الزامات کے بعد چیف منسٹر نے کارروائی کرتے ہوئے راجندر سے وزارت صحت و خاندانی بہبود کا قلمدان کل ہی واپس لے لیا تھا ۔ ضلع کلکٹر اور ویجلنس کی تحقیقاتی رپورٹ آج حکومت کو پیش کی گئی جس میں راجندر پر 66 ایکڑ اراضی پر قبضے کا ثبوت ملنے کا انکشاف کیا گیا ۔ رپورٹ کے فوری بعد چیف منسٹر نے ایٹالہ راجندر کو کابینہ سے برطرف کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گورنر کو سفارش روانہ کردی ۔ گورنر نے چیف منسٹر کی سفارش کو قبول کرتے ہوئے راجندر کو کابینہ سے خارج کردیا ۔ اس طرح گذشتہ 24 گھنٹوں سے وزیر بے قلمدان کی حیثیت سے کابینہ میں برقرار رہنے والے ایٹالہ راجندر کو باہر کا راستہ دکھادیا گیا ۔ کلکٹر نے حکومت کو 6 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی جس میںمتاثرین کی بھی نشاندہی کی گئی ہے ۔ کابینہ سے اخراج کے بعد ایٹالہ راجندر نے اپنے حامیوں سے مشاورت کا آغاز کردیا ہے ۔ حامیوں کا اصرار ہے کہ راجندر اسمبلی کی رکنیت سے بھی استعفی پیش کرکے ضمنی چناو میں آزاد امیدوار کے طور پر مقابلہ کریں۔ کہا گیا ہے کہ ٹی آر ایس کے بھی کچھ قائدین ایٹالہ راجندر سے رابطہ میںآچکے ہیں۔