ایپسٹین فائلز کے تحت مودی کو بلیک میل کیا جارہا ہے: کھرگے/ راہول

   

ملک کی خودمختاری کو خطرہ، مودی کی سمجھوتہ کرنے والی فطرت خارجہ پالیسی کی کمزوری کا سبب

نئی دہلی، 6 مارچ (یو این آئی) کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور سابق صدر راہول گاندھی نے مودی حکومت پر امریکی دباؤ میں کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ دار قوم کے طور پر ہندوستان نے ہمیشہ اپنے فیصلے خود کیے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں جس طرح امریکہ کے اشاروں پر کام ہو رہا ہے ، اس سے ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنی سفارتی شاندار روایت کھو رہے ہیں۔ کھرگے نے کہا کہ ہندوستان کی اسٹراٹیجک خودمختاری اور قومی خودمختاری سنگین خطرے میں ہے کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی کو ایپسٹین فائلز اور آڈانی کیس کے حوالے سے بلیک میل کیا جا رہا ہے ۔ روس سے تیل خریدنے کی امریکی اجازت جو کہ ’30 دن کی چھوٹ‘ کے طور پر دی گئی ہے ، واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ مودی حکومت مسلسل سفارتی آزادی کھو رہی ہے ۔ اس طرح کی زبان پابندی والے ممالک کیلئے استعمال کی جاتی ہے نہ کہ ہندوستان کیلئے جو عالمی نظام میں ایک ذمہ دار اور مساوی شراکت دار رہا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن سندور کے دوران سب سے پہلے پاکستان کے ساتھ فوجی کارروائی روکنے کا اعلان پی ایم مودی کے دوست ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا، ہم نے نہیں۔ انہوں نے کم از کم 100 بار دعویٰ کیا ہے کہ فوجی کارروائی ان کے کہنے پر روکی گئی جس پر وزیراعظم خاموش رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ایرانی تیل نہ خریدنے کیلئے کہا گیا جس پر ہندوستان حکومت نے مان لیا۔ ٹرمپ نے ہندوستان کو روسی تیل نہ خریدنے کا کہا اور ہندوستان نے درآمدات کم کر دی۔ ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے کا اعلان اس شرط پر کیا گیا کہ ہندوستان روس سے تیل نہیں خریدے گا اور پی ایم مودی نے اس پر دستخط کر دیے ۔ اب امریکہ نے ہندوستان کو ’عارضی 30 دن کی چھوٹ‘ دی ہے اور ہندوستانی ریفائنریوں کو روسی تیل خریدنے کی اجازت دے دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تجارت سے لے کر تیل تک، اعداد و شمار سے لے کر دوست ممالک کے ساتھ ہندوستان کے طویل مدتی تعلقات تک مودی جی نے سب کچھ قربان کر دیا۔ کھرگے نے کہا کہ ہندوستان کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کی ایک شاندار تاریخ حاصل رہی ہے اور یہ اب تک بے داغ رہی ہے ۔ جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی سے لے کر اٹل بہاری واجپائی تک پی ایم مودی کو چھوڑ کر کسی بھی وزیر اعظم نے کسی ملک کے دباؤ میں آ کر ہندوستان کو عملی طور پر ایک جاگیردار ریاست نہیں بنایا۔
‘میں ملک کو جھکنے نہیں دوں گا’ صرف انتخابات جیتنے کا ایک نعرہ تھا اور 140 کروڑ ہندوستانیوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ۔”