واشنگٹن، یکم فروری (یواین آئی) امریکی وزارتِ انصاف نے جنسی زیادتی کے مقدمات میں سزا یافتہ جیفری ایپسٹین سے متعلق 35 لاکھ صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کر دی ہیں، جن میں امریکی ارب پتی ایلون مسک اور ان کے بھائی کے ساتھ ساتھ بل گیٹس سمیت دیگر شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں۔ نئی دستاویزات میں 2012 اور 2013 کے دوران مسک اور ایپسٹین کے درمیان ہونے والے پیغامات بھی شامل ہیں، جن کا مقصد کیریبین میں واقع بدنامِ زمانہ ’’لٹل سینٹ جیمز‘‘جزیرے کے ممکنہ دورے کے وقت کا تعین بتایا گیا ہے ۔ اخبار دی گارڈین کے مطابق مسک نے دورے کے طریقۂ کار سے متعلق سوالات بھی کیے تھے ۔13 دسمبر 2013 کو ایپسٹین کو بھیجی گئی ایک ای میل میں لکھا گیا کہ میں چھٹیوں کے دوران برٹش ورجن آئی لینڈز کے علاقے میں ہوں گا، کیا دورے کیلئے کوئی مناسب وقت ہے ؟ اس کے جواب میں ایپسٹین نے یکم سے 8 جنوری کے درمیان وقت کی نشاندہی کی۔ وزارتِ انصاف کی دستاویزات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسک کے بھائی کِیمبل مسک، جو ٹیسلا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن ہیں، نے 2012 میں ایپسٹین اور اس کے ساتھی بورس نکولک کے ساتھ متعدد ای میلز کا تبادلہ کیا۔ ایک پیغام میں کِیمبل نے تعارف کرانے پر شکریہ ادا کیا، جس پر نکولک نے تنبیہ کی کہ جین کے ساتھ بہتر رویہ رکھنا چاہیے کیونکہ ایپسٹین اس معاملے میں ناراض ہو جاتا ہے۔
گزشتہ برس ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں نام آنے کے بعد مسک نے کسی بھی قسم کی شمولیت کی تردید کی تھی اور اس سے قبل کہا تھا کہ وہ ایپسٹین سے صرف ایک مرتبہ مختصر ملاقات کر چکے تھے جبکہ دیگر دعوتیں مسترد کر دی تھیں۔ای میلز کے مطابق اس کے بعد مختلف تاریخوں پر پیغامات کا تبادلہ ہوا، جن میں مسک نے اپنے شیڈول کی وضاحت کی، اور بالآخر 2 جنوری کی تاریخ پر اتفاق ہوا۔ تاہم یہ سلسلہ اس پیغام پر ختم ہوا جس میں ایپسٹین نے نیویارک میں رکنے کی مجبوری بتاتے ہوئے ملاقات نہ ہو پانے پر افسوس ظاہر کیا۔ 2 جنوری 2013 کو مسک نے جواب دیا کہ اس بار انتظامات ممکن نہیں ہو سکیں گے ۔ٹیسلا کے مالک نے ایپسٹین کی قریبی ساتھی غیسلین میکسویل سے واقفیت کی بھی تردید کی اور کہا تھا کہ ایک تقریب میں ان کے ساتھ گردش کرنے والی تصویر محض وینٹی فیئر پارٹی کے دوران اتفاقاً سامنے آ گئی تھی۔ مسک کے مطابق انہوں نے اپنی سابقہ اہلیہ تالولہ ریلی کے ساتھ مین ہٹن میں ایپسٹین کے اپارٹمنٹ کا تقریباً 30 منٹ کا دورہ کیا تھا، جو ایک کتاب کی تحقیق کا حصہ تھا، تاہم اس کی کوئی مخصوص تاریخ نہیں بتائی گئی۔دستاویزات میں شامل ایک ای میل ڈرافٹ میں ایپسٹین نے دعویٰ کیا کہ بل گیٹس غیر ازدواجی تعلقات میں ملوث تھے ۔ ایپسٹین کے اکاؤنٹ سے ملنے والی ای میلز میں یہ تاثر بھی دیا گیا کہ مائیکروسافٹ کے بانی نے مبینہ طور پر ذاتی معاملات سے متعلق معلومات چھپانے کی کوشش کی تھی۔ایک اور پیغام میں ایپسٹین نے لکھا کہ گیٹس کے ساتھ اس کے تعلقات میں مختلف نوعیت کے معاملات شامل تھے ، اور ایک پیغام-جو بظاہر اس نے خود کو ہی بھیجا-میں گیٹس کی جانب سے تعلقات ختم کرنے پر ناراضی ظاہر کی گئی۔ اس پیغام میں مبینہ طور پر ای میلز حذف کرنے اور دیگر درخواستوں کا حوالہ بھی دیا گیا۔دوسری جانب گیٹس کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور غلط قرار دیا۔ ترجمان کے مطابق یہ دستاویزات ایپسٹین کی مایوسی کی عکاسی کرتی ہیں، کیونکہ گیٹس کے ساتھ اس کے مستقل تعلقات نہیں تھے ، اسی لیے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔واضح رہے کہ ایپسٹین کا معاملہ 2005 میں ایک نابالغ کے ساتھ جسمانی تعلقات کی سزا سے شروع ہوا، تاہم بعد ازاں نابالغوں کی جنسی سمگلنگ کے الزامات کے تحت دوسری گرفتاری کے بعد یہ کیس مزید سنگین ہو گیا، جس میں کئی معروف شخصیات کے نام سامنے آئے اور ”ایپسٹین آئی لینڈ” کے دوروں کا ذکر ہوا۔ یہ جزیرہ کیریبین میں سینٹ تھامس کے ساحل کے قریب واقع ہے ۔جیفری ایپسٹین نے 2019 میں جنسی سمگلنگ کے الزامات کے تحت مقدمے کا سامنا کرتے ہوئے جیل میں خودکشی کر لی تھی۔ ان الزامات میں درجنوں نوعمر لڑکیاں شامل تھیں، جن میں بعض کی عمریں 14 سال سے بھی کم بتائی جاتی ہیں۔