حیدرآباد۔ محکمہ ریونیو میں رشوت خوری کا ایک بڑا واقعہ منظر عام پر آیا۔ ایک کروڑ 10 لاکھ روپئے رشوت کے کیسرا تحصیلدار کا واقعہ ابھی تازہ ہی تھا کہ میدک کے ایڈیشنل کلکٹر کی رشوت خوری کے چونکا دینے والے واقعہ کا اے سی بی نے پردہ فاش کیا۔ ایڈیشنل کلکٹر ضلع میدک نے ایک کروڑ 20 لاکھ روپئے کی رشوت کا مطالبہ کیا تھا ۔ اے سی بی نے ایڈیشنل کلکٹر جی ناگیش کے ہمراہ دیگر اعلیٰ عہدیداروں نرسا پور آر ڈی او ارونا ریڈی، اس وقت کے نرسا پور تحصیلدار عبدالستار، جونیر اسسٹنٹ لینڈ ریکارڈ آفس محمد وسیم احمد اور ایک بے نامی شخص ناگیش کو گرفتار کرلیا۔ اس موقع پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اینٹی کرپشن بیورو سید فیاض نے بتایا کہ فبروری میں مورتی نامی شخص نے اے سی بی سے شکایت کی تھی کہ نرسا پور منڈل کے چیل ترتی گاؤں میں واقع 102 ایکر اراضی کی خریداری کیلئے اس نے معاہدہ کیا تھا اور اس شخص کو ریونیو ڈپارٹمنٹ سے این او سی درکار تھی، اس نے نرسا پور تحصیلدار آفس میں درخواست داخل کی اور درخواست فائیل کی شکل اختیار کرتے ہوئے آر ڈی او اور کلکٹریٹ پہنچی اور ایڈیشنل کلکٹر ناگیش نے اراضی پر این او سی جاری کرنے کیلئے ایک لاکھ روپئے فی ایکر رقم کا مطالبہ کیا اور 19.5 لاکھ روپئے پہلی قسط حاصل کرلی۔دوسری قسط 22 لاکھ 50 ہزار روپئے حاصل کرلی اور باقی کے 72 لاکھ روپیوں کیلئے ایڈیشنل کلکٹر کی جانب سے مورتی پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔ رقم کا انتظام نہ ہونے پر اس نے 5 ایکر اراضی جیون گوڑ نامی شخص کے نام رجسٹر کروادی۔ ایڈیشنل کلکٹر ناگیش کی ہدایت پر جونیر اسسٹنٹ وسیم احمد نے 5 لاکھ روپئے مورتی سے حاصل کئے اور فی کس ایک لاکھ آر ڈی او اور تحصیلدار نرسا پورمیں تقسیم کئے۔ اے سی بی نے رشوت خوری کے اس بڑے معاملہ میں 12 ٹیموں کو تشکیل دے کر بیک وقت دھاوا کیا اور ایڈیشنل کلکٹر کے مکان سے بڑی رقم‘ ضمانت کے طور پر لئے گئے بینک کے بلینک چیکس، 5 ایکر اراضی کے دستاویزات کو ضبط کرلیا اور بینک لاکرس و دیگر مقامات کی انکوائری جاری ہے۔ جبکہ آر ڈی او نرسا پور ارونا ریڈی کے مکان سے 28 لاکھ روپئے غیر محسوب رقم کے علاوہ آدھا کیلو سونا ضبط کرلیا۔