ایک دن میں لاکھوں فلسطینیوں کو خان یونس سے نکلنا پڑا

   

راملہ : اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ کے علاقے خان یونس سے ایک دن میں 150,000 فلسطینیوں کو افراتفری کے عالم میں نکلنا پڑا۔الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے دیڑھ لاکھ فلسطینیوں کو خان یونس ایک دن میں خالی کرنے کے پمفلٹ پھینکے ، اور پھر فوراً بعد ہی اسرائیل نے شیلنگ اور بمباری شروع کر دی، خان یونس میں ایک ہی دن میں 8 ماہ کے دوران اسرائیلی فورسز کا سب سے بدترین حملہ کیا گیا جس میں 90 فلسطینی شہید اور 250 زخمی ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے سربراہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے اسرائیل کے انخلا کے احکامات کے بعد خان یونس سے نقل مکانی کی تفصیل بتائی ہے ۔ دوجارک نے منگل کو نیویارک میں صحافیوں کو بتایا ‘‘علاقے میں آبادی کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ہیومینیٹرین اہلکاروں کے مطابق کُل تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کو خان یونس کے علاقوں سے بھاگنا پڑا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے مزید بتایا کہ بھاگنے والے فلسطینی ایسے علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں جہاں انفرا اسٹرکچر بہت کم یا بالکل نہیں ہے ، دجارک کے مطابق اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو مشرقی خان یونس سے المواصی کیمپ (ہیومینیٹرین زون) جانے کے لیے کہا گیا ہے اور وہ ایسے علاقے میں منتقل ہو رہے ہیں جہاں بہت کم سروسز دستیاب ہیں۔ترجمان نے کہا ‘‘ہر انخلا کا حکم لوگوں کی زندگیوں کو بہت زیادہ متاثر کر رہا ہے ، لوگوں کو ایسے علاقوں میں جانے پر مجبور کیا گیا ہے جہاں بنیادی ڈھانچا بہت کم یا ہے ہی نہیں جہاں سر چھپانے کی جگہ، صحت، صفائی یا دیگر جان بچانے والی انسانی امداد تک بہت محدود رسائی دستیاب ہے ۔