ایک طرف خواتین کے حقوق کی بات دوسری طرف پانچ مرد مقررین

   

نیویارک: خواتین اور لڑکیوں کے مساوی حقوق کو فروغ دینے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے نے پیر کو اپنی سالانہ میٹنگ کا آغاز پانچ مرد مقررین کے ساتھ کیا۔ ایک ایسی تقریب کا انعقاد جس نے کچھ مردوں کو مضطرب کیا جبکہ جنرل اسمبلی کے چیمبر میں موجود سینکڑوں خواتین کیلئے یہ کچھ حیران کن تھا۔اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ آخم شٹائنر اور مردوں میں سے سب سے آخری اسپیکر نے مائیکروفون کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’میں بہت محتاط ہوں کہ اس پوڈیم پر کھڑا آپ سے مخاطب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس دو انتخاب ہیں کہ ’نہ بولیں یا کھڑے ہوں‘ اور صنفی مساوات کی حمایت کریں۔
کروشیا کے اقوام متحدہ کے سفیر اور اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل کی نمائندگی کرنے والے تیسرے مرد سپیکر آئمن سیمانووچ نے کونسل کی خاتون صدر کی غیرموجودگی کے لیے معذرت کی جنہوں نے ضروری کام کی وجہ سے شرکت نہیں کی۔ اس فہرست میں بات کرنے والی پہلی خاتون چیتنا گالہ سنہا چھٹے نمبر پر تھیں جو سول سوسائٹی کی نمائندگی کر رہی تھیں اور جب انہیں پوڈیم پر بلایا گیا تو ان کا شاندار استقبال ہوا۔