مستقبل قریب میں ایسا ہونے کے آثار نہیں۔ چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ کا بیان
احمد آباد 16 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ نے آج کہا کہ ریاستی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کیلئے بیک وقت انتخابات یا ایک قوم ایک الیکشن مستقبل قریب میں ہونے نہیں جا رہے ہیں تاوقتیکہ سیاسی جماعتیں اس پر مل بیٹھیں اور اتفاق رائے پیدا کریں اور قانون میں درکار ترمیم کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا مسئلہ ہے جس میںالیکشن کمیشن زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ اس کی رائے صرف یہی ہے کہ وہ اس طرح کے انتظام کو ترجیح دے گا ۔ سنیل اروڑہ نے یہاں نرما یونیورسٹی میںایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی افسر شاہی والا بیان نہیں ہے کہ صرف اتنا کہا جائے کہ ہم اصولی طور پر اتفاق کرتے ہیں۔ تاہم یہ سیاسی جماعتوں کا کام ہے کہ وہ مل بیٹھیں اور ایک اتفاق رائے پیدا کریںاور قانون میں ترامیم کی جائیں تاکہ انتخابی سائیکل کو ایک ساتھ کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ایسا نہیں کیا جاتا اس وقت تک یہ سمینارس میں اظہار خیال کیلئے اچھی بات ہے ۔ لیکن ایسا مستقبل قریب میں ہونے والا نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ 1967 تک ملک میں بیک وقت انتخابات ہوا کرتے تھے تاہم کچھ ریاستی اسمبلیوں کی تحلیل اور دوسری وجوہات کی بناء پر یہ طریقہ کار بتدریج ختم ہوگیا ہے ۔ چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاسکتی جیسا کہ کچھ لوگوں کی جانب سے دعوی کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بحیثیت چیف الیکشن کمشنر پوری ذمہ داری سے یہ کہہ رہے ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاسکتی ۔ یہ خراب ہوسکتی ہیں جیسا کہ کار یا ٹو وہیلر گاڑی ہوتی ہے لیکن ان میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ معروف سائینسدان جو ای وی ایم اور وی وی پیاٹ پر کام کر رہے ہیں وہ ناراض ہیں کہ اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی ووٹنگ مشینوں کے تعلق سے ہی سوال پیدا کئے جاتے ہیں۔