ایک لاکھ نقلی کورونا انجکشن کی فروخت ۔ وی ایچ پی لیڈر گرفتار

,

   

جبل پور : جبل پور پولیس نے نقلی کورونا ریمڈیسیور انجیکشن کی بڑے پیمانے پر فروخت کے معاملہ میں ایک خانگی اسپتال کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ سٹی ہاسپٹل ڈائرکٹر اور جبل پور وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے سربراہ سربجیت سنگھ موکھا کو چارج شیٹ میں کلیدی ملزم کی حیثیت سے نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے منگل کو ملزم وی ایچ پی لیڈر کو گرفتار کرلیا۔ سربجیت نے اندور سے 500 ریمڈیسیور انجیکشن حاصل کئے اور اپنے دواخانہ میں کوویڈ کے کئی مریضوں کو وہی انجیکشن لگوائے۔ 5 مریض بعد میں فوت ہوگئے۔ یہ گرفتاری گجرات پولیس ٹیم کی جانب سے ایک فیاکٹری پر دھاوے کے بعد کی گئی ہے۔ اُس دھاوے میں ہندوستان بھر میں نقلی ریمڈیسیور انجیکشن کے ریاکٹ کو بے نقاب کیا گیا۔ پولیس نے جبل پور کے ساکن اور میڈیسن سپلائر سپن جین کو اِس کیس کے سلسلہ میں 7 مئی کو گرفتار کیا تھا۔ جین کے 3 دوکانات کو مہربند کردیا گیا اور 2 دواخانوں کو بھی پولیس نے بند کردیا ہے جن میں سربجیت کا ہاسپٹل شامل ہے۔ پولیس نے تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیا ہے۔ سٹی ہاسپٹل منیجر دیویش چورسیا کو بھی اِس کیس میں ماخوذ کیا گیا ہے۔ وی ایچ پی اسٹیٹ کنوینر راجیش تیواری نے کہاکہ سربجیت کو آرگنائزیشن سے ہٹادیا گیا تھا۔ تاہم وی ایچ پی جبل پور یونٹ نے بھی پولیس سے منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن کانگریس نے کہاکہ مدھیہ پردیش میں نقلی کورونا انجیکشن کا اِس قدر بڑے پیمانے پر ریاکٹ بے نقاب ہونا کافی تشویش کی بات ہے۔ اپوزیشن پارٹی نے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان نے کہاکہ خاطیوں کے خلاف نرمی نہیں برتی جائے گی اور سخت کارروائی کی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ ملزم یا ملزمین چاہے کوئی بھی رتبہ رکھتے ہوں اُنھیں نہیں بخشا جائے گا۔ نقلی ادویات کی فروخت نہایت سنگین معاملہ ہے اور اِس میں لاپرواہی نہیں کی جائے گی۔ سی ایم ایچ او نے خانگی دواخانہ کو غفلت و لاپرواہی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ چیف میڈیکل اینڈ ہیلت آفیسر (سی ایم ایچ او) نے 5 کورونا مریضوں کی موت کے لئے مقامی گیلکسی ہاسپٹل کو ذمہ دار قرار دیا جہاں 22 اپریل کو آکسیجن کی سپلائی منقطع ہوئی تھی۔ تحقیقاتی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔