ٹی ڈبلیو جے ایف کی جانب سے نمائندگی پر شادنگر رکن اسمبلی وی شنکر کا تیقن
شادنگر ۔ 24 فبروری۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) روزانہ حکومت اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہوئے بروقت معلومات پہنچانے والے ذمہ دار صحافیوں میں سے تمام اہل افراد کو سرکاری ایکریڈیٹیشن کارڈ فراہم کیے جائیں گے ، اس بات کی یقین دہانی شادنگر ایم ایل اے ویرلاپلی شنکر کو ایک تحریری یادداشت کے ذریعہ کرائی گئی۔ پیر کے روز رنگا ریڈی ضلع کے شادنگر میں واقع ایم ایل اے کے سرکاری کیمپ دفتر میں (ٹی ڈبلیو جے ایف) کے ڈیویژن صدر جے راگھویندر گوڑ اور ضلع تشہیری کمیٹی کے رکن نرسمہا ریڈی کی قیادت میں صحافیوں کے ایکریڈیٹیشن مسائل پر ایک یاداشت پیش کی گئی۔ اس موقع پر ریاستی کونسل کے رکن ایم ڈی خواجہ پاشاہ (کے پی)، سینئر صحافی کستوری رنگا ناتھ، راکیش، سائی ریڈی، بوروگولا رمیش، ملچلم رمیش، شکیل، ریاض، جگن، وشنو، روی تیجا، شیوا، آولہ رمیش، سمیع، نریندر، بھاسکر، شراون گوڑ اور دیگر موجود تھے۔ ایم ایل اے شنکر نے یاداشت وصول کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صحافیوں کے مسائل کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے ، ان کے وقار اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے قواعد و ضوابط نافذ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں بے ضابطگیوں کے باعث غیر اہل افراد کو بھی کارڈ جاری کیے گئے تھے ، جس پر صحافتی تنظیموں نے حکومت کی توجہ مبذول کرائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور صحافتی تنظیموں کی مشاورت سے حکومت آگے بڑھ رہی ہے۔ اگر نئے ضوابط میں کوئی خامیاں ہوں تو ان کی اصلاح کر کے ہر اہل صحافی کو ایکریڈیٹیشن کارڈ فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے اس مسئلہ کو حکومت کی توجہ میں لانے کا بھی یقین دلایا۔ ریاستی کونسل کے رکن ایم ڈی خواجہ پاشاہ (کے پی) اور ڈیویژن صدر راگھویندر گوڑ نے مطالبہ کیا کہ یہ مسئلہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی توجہ میں لایا جائے اور تمام اہل صحافیوں کو ایکریڈیٹیشن کارڈ جاری کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کسی قسم کا تنازعہ پیدا نہ ہو ، اس کے لیے متعلقہ صحافتی تنظیموں اور میڈیا اکیڈمی سے مشاورت ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی متعدد مواقع پر میڈیا کی اقدار کا ذکر کر چکے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ انہی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے اہل صحافیوں کو کارڈ جاری کیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایکریڈیٹیشن کارڈز میں حلقہ? اسمبلی (نیوز حلقہ) کی سطح پر کٹوتی نہ کی جائے اور صرف منڈل کے نام تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ حلقہ اور شہری و دیہی سطح کے نام بھی شامل کیے جائیں تاکہ تمام مستحق صحافیوں کو انصاف مل سکے۔