چینائی : تمل ناڈو کیچیف منسٹر ایم کے ۔ اسٹالن نے جمعہ کو کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے دور میں کسی بھی زبان کو اسکولوں میں تیسری زبان کے طور پر مسلط کرنا غیر ضروری ہے اور حقیقی ترقی جدت میں مضمر ہے نہ کہ زبان کو مسلط کرنے میں۔ اسٹالن نے کہا کہ طلباء پر اضافی زبانوں کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے کیونکہ جدید ترجمہ کی ٹیکنالوجی پہلے ہی زبان کی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کر دیتی ہے ۔ انہیں سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت کے ساتھ اپنی مادری زبان اور انگریزی پر توجہ دینی چاہیے اور اگر ضرورت ہو تو وہ بعد میں کوئی بھی زبان سیکھ سکتے ہیں۔ایکس پر ایک پوسٹ میں اسٹالن نے کہا کہ ہندی کی وکالت کرنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کہتے ہیں کہ “آپ کو شمالی ہندوستان میں چائے ، پانی پوری خریدنے یا بیت الخلا استعمال کرنے کے لیے ہندی جاننی چاہیے ۔”انہوں نے کہاکہ “اے آئی کے دور میں اسکولوں میں کسی بھی زبان کو تیسری زبان کے طور پر لازمی قرار دینا غیر ضروری ہے ۔ جدید ترجمہ کی ٹیکنالوجی نے پہلے ہی زبان کی رکاوٹوں کو فوری دور کردیا ہے ۔ طلباء پر اضافی زبانوں کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے ۔ انہیں سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت کے ساتھ اپنی مادری زبان اور انگریزی میں مہارت حاصل کرنے پر توجہ دینی چاہیے ۔ اگر ضروری ہو تو وہ بعد میں کوئی بھی زبان سیکھ سکتے ہیں۔ حقیقی ترقی اختراع میں ہے ، زبان کو مسلط کرنے میں نہیں۔”