اے ٹی ایم سے رقومات کا حصول یکم جنوری سے مہنگا

   

اضافی معاملت پر 21 روپئے اور ٹیکس ادا کرنا ہوگا
حیدرآباد۔/9 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) نئے سال سے عوام کو اے ٹی ایم مشینوں سے رقم حاصل کرنا مہنگا ثابت ہوگا۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے نئے سال کے تحفہ کے طور پر اے ٹی ایم مشینوں سے مقررہ مدت سے زائد مرتبہ رقم حاصل کرنے پر 25 روپئے چارجس اور ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فی الوقت زائد تعداد میں رقم نکالنے پر 20 روپئے چارجس وصول کئے جاتے ہیں۔ کسٹمرس کو ہر ماہ اپنے بینک کے اے ٹی ایم مراکز سے 5 مرتبہ رقم نکالنے کی اجازت ہے جس میں فینانشیل اور نان فینانشیل ٹرانزیکشن شامل رہیں گے۔ وہ دیگر بینکوں کے اے ٹی ایم سنٹرس سے رقومات حاصل کرسکتے ہیں۔ میٹرو مراکز میں تین مرتبہ اور نان میٹرو مراکز میں پانچ مرتبہ دیگر بینکوں کے اے ٹی ایم سے رقم حاصل کی جاسکتی ہے۔ آر بی آئی نے جاریہ سال جون میں نئی شرحوں کا اعلان کیا ہے۔ جون 2019 میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جو انڈین بینکس اسوسی ایشن کے چیف ایگزیکیٹو کی صدارت میں تھی جسے اے ٹی ایم چارجس اور فیس کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ مقررہ تعداد یعنی فری ٹرانزیکشن کے بعد ہر معاملت کو 20 روپئے چارج کئے جارہے تھے لیکن یکم جنوری سے یہ چارجس 21 روپئے ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ر