این پی آر فارمیٹ میں تبدیلی کیلئے جگن حکومت کی مرکز سے درخواست
امراوتی۔/4مارچ، ( پی ٹی آئی) آندھرا پردیش کی مجلس وزراء نے قومی آبادی رجسٹر ( این پی آر ) پر اس وقت تک عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک مرکز کی طرف سے 2010 کا سوالنامہ دوبارہ واپس نہیں لایا جائے گا۔ چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کی صدارت میں منعقدہ کابینی اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں مرکز سے درخواست کی گئی ہے کہ این پی آر کا سوالبند تبدیل کیا جائے اور اس مسئلہ پر عوام میں پیدا شدہ خوف و اندیشوں کودور کیا جائے۔ وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ پیرنی وینکٹا رامیا ( نانی ) نے اجلاس کے بعد کہا کہ کابینہ محسوس کرتی ہے کہ کروڑوں خوفزدہ عوام پر این پی آر زبردستی مسلط کرنا منصفانہ نہیں ہوگا۔یہ مرکز کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوم میں این پی آر کے بارے میں شعور بیدار کرے اور خوف و اندیشوں کا ازالہ کیا جائے۔ ’’ مرکز سے ہم صرف یہ درخواست کررہے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری کی تکمیل نبھائے ‘‘ اس سوال پر کہ ریاست کو مرکزکا فیصلہ مسترد کرنے کا اختیار ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’’ ہم یہ واجبی سمجھتے ہیں کہ ہمیں اگر اختیار نہیں ہے تو دیکھیں گے کہ کیا جاسکتا ہے۔‘‘جگن موہن ریڈی کی وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے قبل ازیں لوک سبھا میں سی اے اے کی تائید میں ووٹ دیا تھا لیکن گزشتہ روز جگن نے اچانک ٹوئیٹر پر ایک مسیج جاری کرتے ہوئے کہا تھا شہریت ترمیمی قانون پر مسلمانوں میں شکوک و اندیشے پائے جاتے ہیں چنانچہ وہ اس قانون کی مخالفت کرے گی لیکن آج موقف کو قدرے نرم کرتے ہوئے مرکز سے این پی آر فارمیٹ میں تبدیلی کیلئے درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔