اے پی کے اعتراضات کے باوجود برقی تیاری جاری رکھنے تلنگانہ کا فیصلہ

   

چیف منسٹر کا اعلیٰ سطحی اجلاس، پوتی ریڈی پاڈو کی تعمیر روکنے مرکز سے نمائندگی
حیدرآباد۔ آندھرا پردیش کے ساتھ آبی تنازعہ میں شدت کے دوران تلنگانہ حکومت نے دریائے کرشنا پر آندھرا پردیش کی جانب سے تعمیر کئے جانے والے پوتی ریڈی پاڈو پراجکٹ کو غیرقانونی قراردیتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی منظوری اور پانی کے الاٹمنٹ کے بغیر ہی تعمیری کام کا آغاز کردیا گیا حالانکہ نیشنل گرین ٹریبونل نے تعمیری کاموں پر حکم التواء جاری کیا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے رائلسیما لفٹ اریگیشن اسکیم پر بھی سخت اعتراض کیا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے کسی بھی صورت میں پوتی ریڈی پاڈو پراجکٹ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ اس غیر قانونی پراجکٹ کے خلاف کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ سے شکایت کی جائے گی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں رائلسیما لفٹ اریگیشن اسکیم کی تعمیر پر غور کیا گیا۔ حکومت نے سری سیلم اور ناگر جنا ساگر میں برقی کے ہائیڈل جنریشن کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے حالانکہ آندھرا پردیش کی جانب سے اعتراضات کئے گئے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیاکہ بچاوت ٹریبونل نے آندھرا پردیش کو صرف آبپاشی کی ضرورتوں کیلئے پانی کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ اجلاس نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے درمیان دریائے کرشنا کے پانی کی 63:33 کے تناسب سے تقسیم کو مسترد کردیا۔ حکومت نے دونوں ریاستوں میں 50:50 تناسب سے پانی کی تقسیم کا مطالبہ کیا۔