سی این این کی میزبانی میں اسقاطِ حمل، انتظامی امور اور یوکرین اور غزہ جنگ اہم موضوعات رہے، ٹرمپ نے 40 اور بائیڈن نے 35 منٹ گفتگو کی
واشنگٹن: امریکہ میں ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن اور ان کے ریپبلکن انتخابی حریف ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان پہلا صدارتی مباحثہ ہوا۔ مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی شام شروع ہونے والے اس مباحثہ میں بائیڈن اور ٹرمپ نے مختلف موضوعات کے حوالے سے ایک دوسرے پر شدید نکتہ چینی کی۔ ان میں اسقاطِ حمل، معیشت کے انتظامی امور کا طریقہ اور یوکرین اور غزہ میں جنگ جیسے معاملات شامل ہیں۔اس پہلے صدارتی مباحثہ کی میزبانی امریکی نیوز چینل سی این این نے کی۔ اس طرح ووٹروں کو موقع ملا کہ وہ امریکی صدارتی انتخابات کے دو عمر رسیدہ امیدواروں کو ایک ساتھ دیکھ سکیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مباحثہ میں سابق صدر ٹرمپ (78 سالہ) نے 40 منٹ جبکہ موجودہ صدر بائیڈن (81 سالہ) نے صرف 35 منٹ گفتگو کی۔سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے موجودہ صدر جو بائیڈن کو چیلنج دیا کہ وہ ادراکی ٹسٹ دیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بائیڈن اس طرح کا Cognitive Test پاس کر سکیں گے۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ میں نے دو ادراکی ٹسٹ دیے تھے اور دونوں ہی پس کر لیے۔ ہم نے ان کے نتائج کا اعلان بھی کیا تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ (بائیڈن) بھی ایک بار تو ٹسٹ دیں ، خواہ بہت آسان سا ہو۔صدارتی مباحثے کے میزبان ٹی وی چینلCNN نے ایک ڈیموکریٹ عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ صدر جو بائیڈن کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ اس تاریخی مباحثے میں صدر کی کارکردگی کے بعد ڈیموکریٹس حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔مباحثے کے ابتدائی نصف گھنٹے کے دوران میں بائیڈن بعض مرتبہ تردد کا شکار نظر آئے اور گفتگو میں ایک سے زیادہ مرتبہ ڈانواں ڈول ہوئے۔ دوسری جانب سابق صدر ٹرمپ پے در پے حملے کرتے رہے۔ ان کی گفتگو میں کئی غلط معلومات دہرائی گئیں۔ مثلا یہ دعویٰ کہ امریکہ آنے والے مہاجرین جرائم کے سبب جرائم کی لہر اٹھی ہے اور ڈیموکریٹس بچوں کے قتل کو سپورٹ کر رہے ہیں۔وائٹ ہاؤس کے دو ذمہ داران نے بتایا کہ صدر بائیڈن نزلے سے دوچار ہیں۔دونوں شخصیات کی ایک دوسرے کیلئے انتہائی نا پسندیدگی چھپی ہوئی بات نہیں۔ مباحثہ شروع ہونے سے قبل دونوں نے مصافحہ بھی نہیں کیا۔مباحثے میں ابتدائی سوالات معیشت پر مرکوز رہے۔ سروے رپورٹوں کے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی شہری اجرتوں میں اضافہ اور بے روز گاری میں کمی کے باوجود صدر بائیڈن کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔