بائیڈن کی وجہ سے ہی عالمی برادری کا امریکہ پر اعتماد بحال ہوا :بلنکن

,

   

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ نے دوسرے باخبر اور حساس امریکیوں کی طرح اس امر کا ادراک کرتے ہوئے کہ امریکی پالیسیوں اور اقدامات کے باعث امریکی ساکھ اور عالمی سطح پر امریکہ پر اعتماد پہلے کے مقابلے میں بہت متاثر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر جوبائیڈن کا دفاع کیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر امریکہ کے بارے میں اعتماد کی بحالی کا کام کر رہے ہیں۔انہوں نے ایک بحث میں اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے ساڑھے تین سال کے دوران عالمی سطحح پر امریکہ کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔ امریکی قیادت دنیا میں پہلے کے مقابلے میں قابل اعتماد سمجھی جانے لگی ہے۔ بحث کا اہتمام بروکنگز انسٹیٹیوشن میں کیا گیا تھا۔بنیادی طور پر اس انسٹی ٹیوشن میں یہ سوال زیر بحث تھا کہ بائیڈن کے زیر قیادت امریکہ کے بارے میں دوست اور دشمن کس طرح کی رائے رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے دور کے بعد بائیڈن نے اس سلسلے میں اپنی کارکردگی کیسے دکھائی ہے۔وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اس حوالے سے کہاکہ دنیا بھر کے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ بائیڈن جب سے صدر بنے ہیں انہوں نے کیا پالیسیاں متعارف کرائیں۔ میں سمجھتا ہوں دنیا بھر میں جوبائیڈن کی پالیسیوں کی ستائش کی جاتی ہے۔ بلنکن کا کہنا تھاکہ میں نے ایک ایسے صدر کو دیکھا ہے جس نے امریکہ کی دوبارہ سرمایہ کاری کی ہے، دنیا میں امریکہ کی دوبارہ سرمایہ کاری کی ہے، اتحادوں اور شراکتوں میں ازسرنو سرمایہ کاری ہے ، خاص بات یہ کہ یہ سرمایہ کاری اس طرح کی ہے جس طرح کہ وہ چاہتے ہیں۔امریکی ٹی وی چینل ‘ سی این این’ پر گزشتہ جمعرات کی 90 منٹ کی بحث کے بعد بہت سے امریکی ووٹروں نے دونوں امیدواروں پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔81 سالہ صدر بائیڈن کی آواز سردمہری کی وجہ سے کھردری تھی، کچھ جوابات کے دوران ان کی زبان لڑ کھڑا گئی اور کچھ سوالوں کے سامنے پسپا نظر آئی۔دوسری جانب 78 سالہ ریپبلکن امیدوار لڈ ٹرمپ تھے۔انہوں نے اشتعال انگیز تنازعات کا ایک سلسلہ دہرایا جو کئی بار جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں، بشمول یہ دعوے کہ انہوں نے 2020 کا الیکشن جیتا تھا۔