بابری مسجد اراضی ہندوؤں کو دینے سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کا انکار

,

   

دانشوروں کے گروپ کی اپیل مسترد ،بورڈ کا آج اہم اجلاس ،سپریم کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہونے کی توقع !

نئی دہلی ۔ /11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ایودھیا میں بابری مسجد کی اراضی ہندوؤں کو گفٹ کردینے بعض مسلم دانشوروں کی جانب سے کی گئی اپیل کو مسترد کردیا ۔ انڈین مسلمس فار پیس نامی اس گروپ نے جمعرات کے دن اپیل کی تھی کہ مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ متنازعہ اراضی کو اکثریتی طبقہ کے افراد کو ٹھوس ضمانت کے عوض گفٹ کردینی چاہئیے ۔ رام مندر کی تعمیر کیلئے ایودھیا میں 2.77 ایکر کی متنازعہ اراضی پر ہندوؤں نے دعویٰ کیا ہے ۔ اراضی ملکیت مقدمہ سپریم کورٹ میں جاری ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان ظفریاب جیلانی نے کہا کہ متنازعہ اراضی پر اپنا ادعا ترک کردینے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اس طرح کے مطالبات کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ۔ اس کیس میں ایسی تجاویز کے ذریعہ اراضی کو حوالے کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی مذاکرات اس تعطل کو توڑنے کیلئے کی گئی تھی لیکن یہ پہلے ہی ناکام ہوچکی ہے ۔ اب یہ معاملہ عدالت کے دائرہ کار میں ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے اس کیس کی سماعت ہورہی ہے اور عدالت عالیہ سے فیصلہ کا انتظار ہے ۔ سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ضمیر الدین شاہ اور سابق چیف سکریٹری اترپردیش انیس انصاری کے بشمول بعض مسلم شہریوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے درخواست کی تھی کہ وہ متنازعہ اراضی پر اپنے ادعاء کو ترک کردینے پر غور کرے ۔ بابری مسجد اراضی ملکیت مقدمہ میں اگر مسلمانوں اور سنی وقف بورڈ کے حق میں ہونے کے باوجود سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں پر مسجد کی تعمیر ممکن ہوسکے گی ؟ جہاں پر پہلے ہی ایک عارضی مندر موجود ہے ۔ اگر اس کیس کا فیصلہ ہندوؤں کے حق میں ہو تو ہندوستانی معاشرے میں ایسے عناصر بھی ہیں جو اپنے سیاسی مفادات کیلئے عدالت کے فیصلہ کا استعمال کریں گے اور ملک میں فرقہ وارانہ فسادات اور کشیدگی کو ہوا ملے گی ۔ ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ضمیر الدین شاہ نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ متنازعہ اراضی غیرسگالی جذبہ کے طور پر ہندوؤں کے حوالے کردیں تاکہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ ہندو اور مسلمان مل جلکر خوشگوار زندگی گزارسکیں گے ۔ 70 سالہ قانونی لڑائی کا آئندہ ماہ حتمی فیصلہ ہونے کی توقع ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی قومی عاملہ کا اجلاس کل /12 اکٹوبرکو لکھنؤ میں منعقد ہوگا ۔ اجلاس میں بابری مسجد اراضی کے تعلق سے پرسنل لاء بورڈ اپنے قطعی موقف کی وضاحت کرے گا ۔ اجلاس میں دیگر امور پر بھی غور و خوص کیا جائے گا ۔ یہ اجلاس ندوۃ العلماء میں منعقد ہوگا ۔ یکساں سیول کوڈ ، تین طلاق جیسے امور پر غور کیا جائے گا ۔