بابری مسجد انہدامی کیس : کلیان سنگھ سی بی آئی عدالت حاضر

,

   

الزامات وضع، درخواست ضمانت منظور، شخصی حاضری سے استثنیٰ
لکھنؤ ۔ 27 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) راجستھان کے سابق گورنر کلیان سنگھ کے خلاف 1992ء میں بابری مسجد کی انہدامی کے مقدمہ پر سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں آج سے سماعت شروع ہوئی۔ سمن کی اجرائی کے بعد کلیان سنگھ عدالت میں حاضر ہوئے اور خود کے بے قصور ہونے کا دعویٰ کیا۔ تاہم خصوصی جج ایس کے یادو نے کلیان سنگھ کو ضمانت دیدی۔ ایودھیا میں واقع 16 ویں صدی کی یہ مسجد 6 ڈسمبر 1992ء کو منہدم کردی گئی تھی۔ اس وقت کلیان سنگھ اترپردیش کے چیف منسٹر تھے۔ جج نے انہیں شخصی طور پر حاضری سے بھی استثنیٰ دیدیا۔ کلیان سنگھ رواں ماہ کے اوائل میں راجستھان کے گورنر کے عہدہ سے سبکدوش ہونے کے بعد بی جے پی کی رکنیت دوبارہ حاصل کی تھی۔ یہ عدالت ان کے علاوہ دیگر کئی بی جے پی قائدین کے خلاف مقدمات کی سماعت کررہی ہے جن میں ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور دوسرے بھی شامل ہیں اور انہیں بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی پر واقع مسجد کے انہدام میں مجرمانہ سازش میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ گورنر راجستھان کے عہدہ سے سبکدوشی کے بعد عدالت نے انہیں سمن جاری کیا تھا جب وہ دستوری استثنیٰ سے محروم ہوگئے تھے۔ کلیان سنگھ کو عدالت کی طرف سے سب سے پہلے اس وقت عدالت کی طرف سے قانونی تحویل میں لیا گیا تھا جب وہ دوپہر 2 بجے عدالت پہنچے تھے۔ بعدازاں خصوصی جج نے ان کے خلاف مختلف تعزیری دفعات کے تحت الزامات وضع کرتے ہوئے مقدمہ کی کارروائی شروع کی۔ کلیان سنگھ نے خود کو بے قصور قرار دیا۔ انہوں نے درخواست ضمانت پیش کی، جس کو قبول کرتے ہوئے 2 لاکھ روپئے کے مچلکہ پر رہا کردیا گیا۔