چارمینار کے اطراف ریاپڈ ایکشن فورس تعینات ، پولیس گشت میں بھی اضافہ
حیدرآباد ۔ /9 نومبر (سیاست نیوز) بابری مسجد تنازعہ کے سپریم کورٹ فیصلے کے بعد شہر حیدرآباد میں درسگاہ جہاد و شہادت کے کارکنوں نے اپنا احتجاج درج کرانے کیلئے پریس کانفرنس منعقد کرنے والے تھے کہ پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا ۔ صدر ڈی جی ایس محمد عبدالماجد ، سکریٹری صلاح الدین عفان اور محمد بن عمر کو پولیس نے ڈی جی ایس کے دفتر واقع مغل پورہ سے آج دوپہر گرفتار کرلیا ۔ حراست میں لئے گئے ڈی جی ایس کارکنوں نے مسلمانوں کے خلاف کی گئی ناانصافی کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اور انہیں ٹاسک فورس پولیس نے فوری طور پر کنچن باغ پولیس اسٹیشن منتقل کردیا ۔ گرفتاری کے بعد ماجد نے میڈیا کو بتایا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے اب تک درسگاہ جہاد و شہادت اس مسجد کی بازیابی کیلئے کوششیں جاری رکھی تھی لیکن عدالت کا یہ فیصلہ مسلمانوں کیلئے مایوس کن ہے ۔ ڈی جی ایس کارکنوں کے خلاف پولیس نے احتیاطی گرفتاری کے تحت ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے انہیں آج رات شخصی مچلکہ پر رہا کردیا ۔ اسی طرح بابری مسجد کے فیصلہ کے بعد پرانے شہر میں اچانک چوکسی بڑھادی گئی اور چارمینار اس کے اطراف و اکناف علاقوں میں ریاپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کو تعینات کردیا گیا اور پولیس گشت میں شدت پیدا کردی گئی ۔ جوائنٹ کمشنر پولیس سنٹرل کرائم اسٹیشن مسٹر اویناش موہنتی جو ساؤتھ زون کے انچارج بھی ہے نے کہا کہ پرانے شہر میں حالات مکمل طور پر پرامن ہے اور پولیس نظر رکھی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر میں موثر پولیس فورس تعینات کی گئی ہے اور حالات کے حساب سے پولیس مزید پولیس فورس تعینات کرنے کا فیصلہ کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جشن میلاد النبیؐ کے موقع پر پولیس نے سکیورٹی کے وسیع تر انتظامات کئے ہیں اور انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جشن میلادالنبیؐ کو پرامن طور پر منائیں ۔
