بابری مسجد کی طرح دیگر عبادت گاہوں پر ہندوتوا تنظیموں کی بری نظر،عبادت گاہ ایکٹ1991 کے خلاف ہفتے بھر میں چوتھی عرضی داخل ،اب تک کل سات عرضیاں داخل

,

   

نئی دہلی: عبادت گاہوں کے قانون 1991 کے خلاف سپریم کورٹ میں ساتویں عرضی داخل کی گئی ہے۔ ایک ہفتے کے اندر دائر کی جانے والی یہ چوتھی عرضی ہے۔ نئی عرضی کتھا واچک دیوکی نندن ٹھاکر نے دائر کی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ تمام درخواستوں میں پلیس آف ورشپ ایکٹ کو آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف بتایا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ جب مذہبی مقامات جیسے امن و امان، زراعت، تعلیم وغیرہ کی دیکھ بھال اور اس سلسلے میں قانون بنانے کا حق بھی ریاستوں کو دیا گیا ہے، آئین میں بھی یہ حق صرف ریاستوں کو دیا گیا ہے، پھر مرکز نے یہ قانون کیسے بنایا؟ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ قانون منمانا اور غیر آئینی ہے۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مرکز کے ذریعہ 1991 میں پارلیمنٹ کے ذریعہ پاس کردہ ورشپ پیلس ایکٹ جسے قانون بنایا گیا تھا۔ یہ سارا عمل غیر آئینی ہے۔ اس لیے اس قانون کو منسوخ کیا جائے۔