ادویات اور آکسیجن کی دوبارہ کمی کا امکان ، عوام کو احتیاط برتنے اطباء کا مشورہ
حیدرآباد۔ بارش اور موسم کی تبدیلی کے سبب شہر میں دوبارہ بخار اور وبائی امراض تیزی سے پھیلنے لگے ہیںاور ایک مرتبہ پھر سے شہر میں آکسیجن سیلنڈرس کی قلت پائی جانے لگی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں شہریو ںکی جانب سے وبائی امراض کی صورت میں درکار ادویات اور آکسیجن بطور احتیاط حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا جو کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کی تیاری کے طور پر تصور کیا جانے لگا ہے۔ شہر میں ہوئی بارش کے بعد موسم میں آنے والی تبدیلی نے شہریوں کو تشویش میں مبتلاء کردیا ہے اور وہ وبائی امراض کی ادویات حاصل کرنے کے علاوہ کسی بھی طرح کی ہنگامی صورتحال سے محفوظ رہنے کیلئے آکسیجن کے حصول کے علاوہ دواخانوں میں بستروں کی صورتحال کا جائزہ لینے لگے ہیں۔ بارش کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے سلسلہ میں ماہر اطباء کا کہنا ہے کہ ان حالات میں جب کوئی وباء پھیلی ہوئی ہے ایسے وقت میں دیگر وبائی امراض کا پیدا ہوجانا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے لیکن اس میں خوفزدہ ہونے کے بجائے احتیاط کرنے پر صحت مند زندگی گذاری جاسکتی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں بارش کے سبب کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی شکایات کے ساتھ اب سردی اور بخار کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے اور بعض خانگی دواخانو ںمیں ان معمولی امراض کے ساتھ پہنچنے والوں کو شریک کرتے ہوئے انہیں خوفزدہ کیا جانے لگا ہے۔ پرانے شہر کے علاقہ میں بارش کے سبب سردی اور بخار کی شکایات کے ساتھ دواخانوں سے رجوع ہونے والے مریضوں کو دواخانہ کے ذمہ دارو ںکی جانب سے خوفزدہ کرتے ہوئے انہیں آئی سی یو میں تک شریک کرنے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں اور وبائی امراض کا شکار افرا د کو کورونا کا خوف دکھایا جانے لگا ہے جس کے سبب شہریوں کی جانب سے آکسیجن حاصل کئے جانے لگے ہیں اور دوبارہ شہر میں آکسیجن لانے اور لایجانے کے نظارے دکھنے لگے ہیں۔شہریوں نے بتایا کہ دواخانوں کی لوٹ کھسوٹ اور کسی بھی طرح کی ہنگامی صورتحال سے محفوظ رہنے کیلئے وہ آکسیجن حاصل کر رہے ہیں اور اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں سانس لینے میں ہونے والی تکلیف کی صورت میں بھی دواخانہ جانے کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ کورونا وائرس وباء کے دوران تنفس کی شکایات کے ساتھ جو مریض دواخانہ سے رجوع ہوئے تھے انہیں آکسیجن اور چنندہ ادوایات ہی بغرض علاج دی گئی تھی اوراب وہ بطور احتیاط ان ادویات اور آکسیجن کو اپنے گھروں میں رکھنے لگے ہیں۔