بارش میں سڑکیں تباہ و برباد ، مرمت و درستگی پر عدم توجہ

   

کنٹراکٹرس اور بلدیہ کے عہدیداروں کے درمیان رسہ کشی ، بقایا جات کی ادائیگی پر زور
حیدرآباد۔3ستمبر ( سیاست نیوز ) دونوں شہروں میں بارش کے دوران تباہ ہونے والی سڑکوں کی مرمت کے سلسلہ میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے اختیار کی جانے والی پالیسی شہریوں کے لئے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہونے لگی ہے اور کہا جارہا ہے کہ سڑکوں کی مرمت کے اقدامات کے لئے بارش کے مکمل طور پر رکنے کا انتظار کیا جائے گا۔دونوں شہروں میں جہاں بڑے پراجکٹس پر خدمات انجام دینے والے کنٹراکٹرس نے ترقیاتی کاموں کی رفتار کو کم کردیا ہے اور وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بلدیہ کی جانب سے ادا شدنی بقایاجاتا کی اجرائی کے بغیر وہ ترقیاتی کامو ںکو انجام دینے کے موقف میں نہیں ہیں ۔ کنٹراکٹرس اور بلدی عہدیدارو ںکے درمیان جاری اس رسہ کشی کا اثر عام شہریوں پر ہونے لگا ہے کیونکہ بارش کے سبب خستہ حالی کا شکار ہونے والی سڑکوں کی تعمیر سے بھی گتہ دار انکار کر رہے ہیں لیکن بلدی عہدیدارو ںکی جانب سے گتہ داروں کی جانب سے کئے جانے والے انکار کی توثیق کے بجائے یہ کہا جا رہاہے کہ بلدیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ موسم باراں کے خاتمہ کے بعد ہی سڑکوں کی مرمت کے اقدامات کئے جائیں گے۔M

دونوں شہروں کے کئی علاقوں اور مصروف ترین سڑکوں کے علاوہ گچی باؤلی‘ مادھاپور‘ مدینہ گوڑہ کی سڑکوں کی حالت بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکی ہے۔سعید آباد‘ چندرائن گٹہ‘ بہادر پورہ کے علاوہ بندلہ گوڑہ اور دیگر علاقوں میں جہاں بلدیہ کے ترقیاتی کام جاری ہیں ان علاقوں میں سڑکوں کی حالت انتہائی ابتر ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود جی ایچ ایم سی کی جانب سے ان سڑکوں کی تعمیر کے سلسلہ میں اقدامات کو نظرانداز کیا جانے لگا ہے جو کہ ان سڑکوں پر ٹریفک جام کے علاوہ حادثات کا سبب بننے کے علاوہ عوام کے لئے گذر انتہائی مشکل ہونے لگا ہے۔ M